021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادھار معاملے میں قیمت بڑھانا
..خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

سوال: آج کل قسطوں پر اشیاء ملتی ہیں مثلاً کمپیوٹر وغیرہ ۔ اصل قیمت 50ہزار روپے ہوتی ہے لیکن اگر 12اقساط میں لیں تو5 ہزار ماہانہ قسط کی وجہ سے رقم 60ہزار ہو جاتی ہے ۔ کیا12 ماہ کے دوران یہ اضافی رقم سود کہلائے گی ؟ اور کیا اس طریقے سے چیزیں خریدنا جائز ہے جو بظاہر آسان طریقہ ہے ؟شریعت کا کیا حکم ہے ؟

o

اشیاء کی ادھار اورنقد قیمت کا مختلف ہونا شرعاً جائز ہے۔لہذا ادھار خریدو فروخت میں چیز کی قیمت زیادہ لگانا جائز ہے، چاہے ادائیگی یکمشت کرنی ہو یا قسطوں میں ،بشرطیکہ معاملہ کرتے وقت یہ طے ہو کہ ادہار معاملہ ہوگا،نیزادائیگی کے اوقات اور مدت بھی واضح طور پرطے ہو۔ چنانچہ مذکورہ صورت کے مطابق قسطوں پر چیز خریدنا جائز ہے اور اضافی رقم سود نہیں بلکہ قیمت میں اضافہ شمار ہوگی۔ البتہ اگر کسی وجہ سے ادائیگی میں تاخیر ہو جائے یا کوئی قسط شارٹ ہو جائے تو طے شدہ قیمت میں اضافہ کرنا یا خریدار کو جرمانہ کرنا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"(المادة 245) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط (المادة 248) تأجيل الثمن إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يكون مفسدا للبيع." مجلة الأحكام العدلية (ص: 50) "(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع " الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 531) " لأنه يزاد في الثمن لأجل الأجل " التجريد للقدوري (5/ 2261) "إذا كان الثمن مؤجلاً إلى أجل معلوم يلزم أداؤه عند حلول أجله.وإن كان مقسطاً على أقساط معينة يؤدي كل قسط في ميعاده فإن تأخر المشتري عن أداء قسط لا تصير الأقساط الأخر حالة إلا إذا كان ذلك مشروطاً في العقد." مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان (ص: 62) "مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي." (رد المحتار) (4/ 61) المبسوط للسرخسي (14/ 36) وصفة الشرطين في البيع أن يقول بالنقد بكذا وبالنسيئة بكذا وذلك غير جائز واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔