021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
(مالی جرمانہ کا حکم (تعزیرمالی
..حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

سوال:عرض ہے کہ جس طرح جامعہ میں طلباء کو تعزیر بالمال کیا جاتا ہے ۔اسی طرح دوسرے مدارس نے بھی اس تعزءر کو اپنا لیا ہے، اس طرح ایک مدرسے کے ناظم التعلیم نے مجھ سے کہا کہ طلباء مارنے اور سزا دینے سے کنٹرول نہیں ہوتے اور یہ زمانہ بھی تقریباً مارنا پیٹنا برداشت نہیں کر سکتا تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئےاور جامعة الرشید کی اتباع کرتے ہو ئے ہم نے بھی طلباء کو تعزیر بالمال کرنا شروع کر دیا ہے تو ابھی طلباء میں کافی تغیر آچکا ہے ،لیکن اس پر طلباء اور بعض اساتذہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جائز نہیں۔ لہذا اسکے شرعی حکم کے بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں۔ چاہے تاویل کے ساتھ ہو یا بغیر تاویل کے،شرعی حکم کے بارے میں آگاہ فرما ئیں۔

o

مفتی بہ قول کے مطابق احناف کے نزدیک مالی جرمانہ لینا شرعاً ناجائز اورحرام ہے۔ رہی بات جامعة الرشید میں طلباء سے لی جانے والی رقم کی تو اتباع کرنےوالے کا فرض ہے کہ پہلے اس کی ساری تفصیلات باقاعدہ طور معلوم کرے کہ وہ رقم مالی جرمانہ ہے بھی یا نہیں یا کس مد میں لی جاتی۔ جامعة الرشید کے انتظامیہ سے رابطہ کر کے اس کی تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں نیز اس سے متعلق جامعہ کے دارالافتاء سے فتویٰ بھی جاری ہو چکا ہے دارالافتاء سے رابطہ کر کے وہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فتوی نمبر61528/57) (

حوالہ جات

رد المحتار (4/ 61) "مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه" واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔