021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاسرکاری ملازم خورد برد(بے ضابطگی)کاازالہ مفت بجلی کی سہولت’’ ترک‘‘ کرنے کے ذریعہ کرسکتاہے؟
..جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

زید واپڈا میں سرکاری ملازم ہے دوران سروس اس سے چند غلطیاں ہوئیں ان کا ازالہ چاہتا ہےتاکہ روز قیامت پکڑ سے بچ جائے۔ایک مرتبہ بجلی کا میٹر ریوائز کر کے دو ہزار یونٹ تقریباً ناجائز بجلی استعمال کی۔اسی طرح ایک اور مرتبہ اپنا میٹر خراب ہونے کی وجہ سے دو تین ماہ ڈائریکٹ تار لگا کر بجلی استعمال کی۔اسی طرح ناجائز اور بوگس ادویات کے بل ڈاکٹر اور میڈیکل سٹور سے بنوا کر واپڈا سے تمام بل کلیم کروائے ہیں۔اب جبکہ زید کو فکر لاحق ہوئی ہے کہ قیامت کے دن کیا حساب دے گا تو زید توبہ واستغفار کرتا ہے اور ساتھ کیا طریقہ اپنائے جس سے یہ تمام ادائیگی واپڈا کو ہو جائے اور بندہ کلیئر ہو جائے؟ کیا اس طریقے سے واپڈا کو ادائیگی ممکن ہے کہ زید کو واپڈا کی طرف سے سا لانہ 1800 یونٹ فری بجلی ملتی ہے۔ زید تین چار سال تک وہ 1800 مفت یونٹ نہ لے اس طرح 1800 یونٹ بجلی واپڈا کے پاس رہے گی جو زید کو ملنی تھی۔ کیا اس طرح ازالہ ممکن ہے؟

o

ادارے کی طرف سے مفت یونٹ ملنے کی دو صورتیں ہے: عام طور پر کمپنی کی طرف سے ملنے والے یونٹ ملازم کی تنخواہ کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ کمپنی کی طرف سے ملازم کواباحت (یعنی استعمال کی اجازت) ہوتی ہے۔ ملازم کے پاس ان یونٹس کی ملکیت نہیں ہوتی ہے بلکہ کمپنی اپنے ملازمین کی سہولت کے لیے ملازمین کو مفت یونٹ کی ایک خاص مقدار کے استعمال کی اجازت دیتی ہے اس وجہ سے اگر کوئی ملازم ان یونٹس کا استعمال نہ کرے تو کمپنی کی طرف سے اس کے بدلے کوئی رقم نہیں دی جاتی۔چونکہ یہ یونٹ اس صورت میں آپ کی ملکیت میں نہیں آئے اس لیے اس سے ادائیگی بھی درست نہیں۔ البتہ اگر وہ یونٹ تنخواہ کا حصہ ہوں اور ان یونٹ کے استعمال نہ کرنے والے کو ان یونٹس کے بدلے کمپنی سے معاوضہ ملتا ہو تب ان یونٹس کی رقم چھوڑ کر کمپنی کی اجازت کے بغیر استعمال کی جانے والی بجلی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 161( (المادة 836) الإباحة هي عبارة عن إعطاء الرخصة والإذن لشخص أن يأكل أو يتناول شيئا بلا عوض.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔