021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجیر خاص( اسٹنٹ لائن مین) کے لیے دفتر میں حاضری کی بجائےذاتی مشغولیت
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

بکر واپڈا میں ملازم ہے اور وہ رات کی تیسری شفٹ کمپلینٹ سینٹر میں ڈیوٹی کر رہا ہے تیسری شفٹ رات 10 بے سے صبح 6 بجے تک ہے۔بکر اسٹنٹ لائن مین ہے گویا کہ رات کے وقت کوئی کمپلینٹ آ جائے رات 12 بجے ہو یا دو بجے فیڈر بند ہو جائے تو لائن مین کو فون آتا ہے وہ اسی وقت اپنے گھر سے اٹھ کر آتا ہے اور دفتر سے بکر اسٹنٹ لائن مین کو ساتھ لے کر کمپلینٹ کر کے آتا ہے لیکن رات کے وقت شہر میں کمپلینٹ زیادہ اور یہاں گاؤں میں بہت کم کمپلینٹ آتی ہے لیکن جب کمپلینٹ آجائے چاہے رات کے تین بج رہے ہوں سخت سردی ہو تو جانا پڑتا ہے بصورت دیگر کمپلینٹ نہ ہونے کی صورت میں بکر رات کے وقت سویا رہتا ہے جس کا علم دفتر کے صاحب کو بھی ہے کوئی مسئلہ تو نہیں؟روزی میں کوئی فرق تو نہیں پڑے گا۔

o

اپنی ڈیوٹی ٹائمنگ میں اس کے لیے دفتر میں حاضری ضروری ہے۔البتہ اگر دفتر میں کام نہ ہو اور یہ اس وقت دفتر میں آرام کرے یا کسی دوسرے ایسے کام میں وقتی طور پر مشغول ہو سکتا ہے جس میں اسے یقین ہو کہ اس کا کام متاثر نہ ہو گا تو اس میں حرج نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 70) [مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة] (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔