021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریک کی خریدی ہوئی زمین میں شرکت
..شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

دوسرے فریق نے اس زمین کے ساتھ ملی ہوئی دوسری زمین خرید کر اس کے ساتھ ملا دی ہے اور کاغذات بھی دونوں کے اکھٹے بنائے ہیں جبکہ اس زمین کا راستہ ہماری مشترکہ زمین سے ہے۔اب میں چاہتا ہو کہ وہ اس زمین میں مجھے شریک کرے۔یا ہماری مشترکہ زمین کے کاغذات الگ سے بنوا کر اس زمین کو الگ کریں۔

o

آپ کے پارٹنر نے جو زمین خریدی ہے آپ اس زمین میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہیں، اس لیے آپ کا اس کے ساتھ اس زمین میں صرف راستہ ایک ہونے کی وجہ سے شرکت کا مطالبہ درست نہیں ،البتہ اگر آپ کا پارٹنر آپ سے زمین کی قیمت لے کر آپ کو شریک کرنا چاہے تو یہ درست ہے،لیکن اگر وہ آپ کو اس زمین میں شریک نہ کرے تو پھر آپ کا اس زمین کو مشترکہ زمین سے الگ کرنے کا مطالبہ درست ہے۔ آپ کا پارٹنر اگر اپنے لیے ہوئے پلاٹ کے لیے مشترکہ زمین میں سے اپنے حصہ پر اپنے پلاٹ کے لیے راستہ بنائے یا آپ سے اپنے پلاٹ کے لیے راستہ خریدے دونوں صورتیں درست ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 77) (قوله وصح بيع الطريق) ذكر في الهداية أنه يحتمل بيع رقبة الطريق وبيع حق المرور، وفي الثاني روايتان اهـ. ولما ذكر المصنف الثاني فيما يأتي علم أن مراده هنا الأول. ثم في الدرر عن التتارخانية: الطريق ثلاثة: طريق إلى الطريق الأعظم. وطريق إلى سكة غير نافذة، وطريق خاص في ملك إنسان فالأخير لا يدخل في البيع بلا ذكره أو ذكر الحقوق أو المرافق، والأولان يدخلان بلا ذكر. اهـ ملخصا. وحاصله: لو باع دارا مثلا دخل فيهما الأولان تبعا بلا ذكر بخلاف الثالث.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔