021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ میں قبضہ کاشرعی حکم
71151ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

جناب عالی!گزارش ہے کہ سائل میاں غلام سرور ولد میاں محمد ابراہیم (مرحوم)ملتمس ہوں کہ والد محترم اپنی زندگی میں اپنی تمام تر اولاد کوزمین (حصہ داری )ہر ایک کے نام منتقل کرچکے ہیں ۔کچھ تفصیل برائےآگاہی وآسانی پیش خدمت ہے:

ہم دو ماؤں کی اولاد ہیں ۔بالترتیب پہلی ماں سے ایک بیٹامحمد ہارون اور تین بیٹیاں ہیں ۔دوسری ماں سے سائل خود میاں غلام سرور،نورعین اور محمد بشیر ہیں ۔والد محترم نےڈبریاں (جگہ کا نام )میں زمین خریدی اور شفعہ کی وجہ سےاپنی پہلی بیوی (والدہ محمد ہارون )کے نام کردی۔پہلی بیوی کے انتقال ہونے کے بعد والد محترم نے مرحومہ کی زمین کی وراثت کاانتقال تین بیٹیوں ، ایک بیٹے اوراپنے  نام کروادیئے۔

جب دوسری شادی میری والدہ سے ہوئی تو جوزمین ان کے نام پر آئی تھی(مرحومہ سے ملنے والاحصہ) انہوں نےمیری والدہ کوحق مہر میں دے دی ۔ اس کے بعد کچھ زمین گاؤںسندہوری اور کچھ گاؤں کھرلیاں میں خریدی ،جو والد محترم نے(1990) میں ہم تین بھائیوں کو ہبہ کردی ہے۔اور ساتھ ہی جو زمین میری والدہ کوحق مہر میں دی وہ بھی ہم تین بھائیوں  کے نام ہبہ کردی،اور والدمحترم میاں محمد ابراہیم صاحب دسمبر1995 کو وفات پاگئے۔

والد محترم کی وفات کے پچیس سال بعد بڑا بھائی محمد ہارون والدمحترم کی تقسیم کوغیر منصفانہ قرار دے رہا ہے کہ مجھے جو زمین ملی ہے وہ والدہ کی وراثت سےملی ہے اور وہ اس بات پر اصرار کر رہاہے کہ مجھےوالد محترم کی طرف سے حصہ داری نہیں ملی۔استدعا یہ ہے کہ شریعت محمدی ﷺکی روشنی میں والد صاحب مرحوم (میاں محمد ابراہیم)کی تقسیم شدہ زمین کو غیر منصفانہ قرار دینا اور دوسرے بھائیوں کے حق کو سلب کرنے کے ارادےپر کیا حکم ہے۔

لہذا التجاء بخدمت حضور  ہے کہ شریعت محمدیﷺ کی روشنی میں فتوی صادر فرما دیجئے,عنداللہ ماجور ہو.

o

ہبہ شرعا اس وقت  مکمل ہوتا ہے جب موہوبہ چیز کا مالکانہ تصرف وقبضہ موہوب لہ کو دے دیاجائےوگر نہ صرف نام کرنے سے یا ہبہ کا اعلان کرنے سےموہوبہ چیز کسی کی ملکیت میں نہیں آتی بلکہ وہ واہب ہی کی ملکیت ہوتی ہے ۔لہذاسوال میں  مذکورپہلی صورت کاحکم یہ ہے کہ اگروالد نے زمین پہلی بیوی کےصرف نام کیاہواوراس کومالکانہ تصرف و قبضہ نہ دیا  ہوتویہ ہبہ تام  نہیں ہے  بلکہ یہ زمین والد ہی کی ملکیت تھی، اس  کے بعد جب والد نے یہ زمین اپنے اور اپنے کے بچوں کے نام کرائی ، تو اس کی شرعی  حیثیت  بھی بچوں کو ہبہ کرنے کی تھی ،لہذا ہبہ کے ساتھ ساتھ  ان کوقبضہ دینا  بھی ضروری تھا ورنہ یہ ہبہ مکمل نہیں  ہواتھا۔

اوراگروالد نے پہلی بیوی کو قبضہ بھی دےدیا  تھا ،تو یہ زمین پہلی بیوی کی میراث تھی،لہذا  شوہر اوراس کی پہلی بیوی کی اولاد کے درمیان  بطور میراث اسکی تقسیم ہوگئی تھی ۔

جو زمین  دوسری بیوی کو حق مہر میں دی  گئی تھی تو وہ  اسی   کا حق ہے، اس میں شوہرکو  شرعاً  کسی قسم کاتصرف مثلاً(ہبہ کرنا،بیچنا وغیرہ) کا حق نہیں تھا، لہذا اگر والد نے بیوی کی رضامندی کے بغیر یہ زمین آپ لوگوں کو ہبہ کی تھی تو یہ ہبہ درست نہیں ہوا،بلکہ یہ زمین دوسری بیوی کے انتقال کے بعد  اس کی  سگی اولاد میں بطور میراث تقسیم ہوگی۔

جوزمین والد نے خرید کر آپ بھائیوں کوہبہ کیں تھیں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر والد نےیہ  زمینیں آپ لوگوں  کے نام کرکے قبضہ بھی  دیدیا تھا تو یہ ہبہ صحیح اور تام ہوگیا تھا ، لہذا اب یہ آپ لوگوں  کی ملکیت ہے، بڑٖے بھائی کا اس میں کوئی حق نہیں ۔ اور اگر والد نے  ہبہ کے بعدآپ لوگوں کو اپنی زندگی میں قبضہ و مالکانہ تصرف نہیں دیا تھاتو اس  صورت میں  یہ زمین دونوں ماؤں کی اولادمیں  مشترک ہوگی اور ان کے درمیان بطورمیراث تقسیم ہوگی ۔

وضاحت : سائل  نے فون پر بتایا کہ والد کا انتقال  پہلے ہو ا  تھا اور اس کے چند سال بعد ہماری سگی ماں (والد کی دوسری بیوی ) کی وفات ہوگئی ہے ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 374)
 ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 91)
وشرطها أن يكون الواهب عاقلا بالغا حرا والموهوب له مميزا والموهوب مقبوضا۔ (قوله وشرطها) قال الأتقاني وأما شرط جوازها فالقبض حتى لا يثبت الملك للموهوب له عندنا قبل القبض،وكونها غير مشاع إذا كانت مما يحتمل القسمة۔
شرح المجلۃ  لسلیم رستم الباز  (۱/۴۶۲ رقم المادۃ۸۳۷)
تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول، وتتم بالقبض الکامل، لانھا من التبرعات،والتبرع لایتم الا بالقبض ويسقط حق الواهب في الرجوع إذا قبضه) كبدل الخلع ۔                                                                            

وقاراحمد

  دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

۱۴ربیع الاول ۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔