021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائع کو مکان کرایہ پر دینا
68308خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 ایک شخص نے دوسرے سے ایک مکان 30لاکھ کا خریدا اور رقم کی ادائیگی باہمی رضامندی سے پانچ ماہ بعد دینے کو طے پائی ۔مشتری نے بائع سے قبضہ مانگاتاکہ وہ اسے کرایہ پر دے سکے،بائع نے کہا کہ تو کسی اور کو کرایہ پر دےرہا ہےتو مجھے ہی دےدے تاکہ مجھے سامان نکالنے وغیرہ کی پریشانی نہ ہو،جب تو پیمنٹ مکمل کردے گاتو میں بھی گھر خالی کردوں گااور ان پانچ ماہ کا میں تجھے کرایہ دوں گا،اس پر دونوں متفق ہو گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ مشتری کےلیےبائع سےیہ کرایہ کا پیسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

o

مذکورہ صورت  میں عقدبیع کی تکمیل کے بعدمکان کا مالک مشتری ہے،اس مکان میں وہ جو تصرف کرنا   چاہےکرسکتاہے،لہذا مشتری کا بائع کومکان کرایہ پر دینااور اس کا کرایہ وصول کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن نجیم الحنفی رحمہ اللہ تعالی:(باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها) (قوله صح إجارة الدور والحوانيت بلا بيان ما يعمل فيها)لأن العمل المتعارف فيه السكنى فينصرف إليه ،وأنه لا يتفاوت فصح العقد .والحوانيت الدكاكين كذا في الجوهرة .وأشار إلى أنه لا يشترط أيضا بيان من يسكنها ، فله أن يسكنها بنفسه، ويسكنها غيره بإجارة وغيرها.(البحر الرائق:7/304) قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:والإجازة صريح، وما هو في معنى الصريح، ودلالة، وهو أن يتصرف المشتري في المبيع تصرف الملاك كالبيع، والمساومة، والإعتاق، والتدبير، والكتابة، والإجارة، والهبة، والرهن سلم أو لم يسلم ؛لأن جواز هذه التصرفات يعتمد الملك، فالإقدام عليها يكون دليل قصد التملك أو تقرر الملك على اختلاف الأصلين، وذا دليل الإجازة….. ولو كان المبيع دارا، فسكنها المشتري، أو أسكنها غيره بأجر أو بغير أجر، أو رم شيئا منها، أو جصصها، أو طينها، أو أحدث فيها شيئا، أو هدم فيها شيئا، فذلك كله إجازة؛ لأنه دليل اختيار الملك أو تقريره، فكان إجازة دلالة. ولو كان فيها ساكن بأجر، فباعها البائع برضا المستأجر، وشرط الخيار للمشتري، فتركه المشتري فيها أو استأوى الغلة، فهو إجازة؛ لأن الأجرة بدل المنفعة، فكان أخذها دلالة قصد تملك المنفعة أو تقرير ملك المنفعة، وذلك قصد تملك الدار أو تقرر ملكه فيها، فكان إجازة.(بدائع الصنائع :5/270) قال العلامۃ خالد الاتاسی رحمہ اللہ تعالی:وإن كانت دارا فآجرھا المشتري ،إن سلمھا إلي المستاجر،صار قابضأ،وإلا فلا.(شرح المجلة :مادة 275) وھکذا قال الشیخ محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ تعالی .(فقہ البیوع:1/401)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔