021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فروخت کنندہ کے علاوہ کسی اور کا مشتری کو اقالہ پر مجبور کرنا
69955جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

:ایک شخص خالد حمید جس کی عمر 59 سال ہے نے محمد اسحاق ولد عبدالرزاق جس کی عمر 65سال ہے سے دو کنال زرعی زمین خریدی،جس کی زبانی بیع 175000 میں طے ہوئی اور یہی قیمت اداء کی گئی،جبکہ تحریری بیع نامہ میں یہ قیمت ڈھائی لاکھ روپے تحریر کی گئی،معاہدہ تکمیل کو پہنچ گیا،زبانی معاہدے کے مطابق رقم ادا کی گئی اور قبضہ لے لیا گیا،زمین پر چارہ کاشت کردیا گیا،تمام قانونی مراحل بھی مکمل ہوگئے اور زمین خالد حمید کو قانونی طور پر منتقل ہوگئی۔

اس عمل کے دس دن بعد محمد اسماعیل جس کی عمر 54 سال ہے جو فروخت کنندہ محمد اسحاق کا چھوٹا بھائی ہے محمد ایوب کے ہمراہ جو محمد اسحاق اور اسماعیل کا بہنوئی اور علاقے کا با اثر شخص ہے،ان دونوں نے خالد حمید کو دھمکایا اور دباؤ ڈالا کہ زمین واپس کرو اور اپنی رقم واپس لے لو،کیونکہ تم نے زمین ہماری اجازت کے بغیر خریدی ہے اور مرضی کی پنچائیت بلاکر یہ فیصلہ کیا گیا کہ زمین کی قیمت مع اخراجات خالد حمید کو اداء کئے جائیں اور خالد حمید ہمیں زمین واپس کردے۔

خالد حمید نے تحریری بیع نامہ پیش کیا،جس میں قیمت ڈھائی لاکھ روپے درج تھی اور قانونی اخراجات کی مد میں مزید پچاس ہزار کا مطالبہ کیا،اس طرح تین لاکھ روپے خالد حمید کو اداء کردیئے گئے،جبکہ حقیقی اخراجات دولاکھ دس ہزار روپے تھے،اب وہ لوگ یہ زمین کوثر بی بی زوجہ محمد اسحاق کے نام منتقل کرانا چاہتے ہیں،اس معاملے کے بارے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔آیا دباؤ کے ذریعے سودا منسوخ کرانے کی شریعت اجازت دیتی ہے؟

2۔خالد حمید نے جو اضافی رقم وصول کی ہے وہ اس کے لیے لینا جائز ہے،جبکہ زمین کی منتقلی فروخت کار کے بجائے اس کی بیوی کو دی جارہی ہے؟

3۔خالد حمید اس بات پر مصر ہے کہ واپس کی گئی تین لاکھ کی رقم واپس لے لی جائے اور زمین اس کے قبضے اور ملک میں رہنے دی جائے۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ رقم کی ادائیگی فروخت کنندہ کے بھائی محمد اسماعیل کی طرف سے کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ انتقال ان کے تیسرے بھائی محمد اشفاق کے نام کیا جائے،لیکن خالد حمید کے انکار پر پھر یہ کہا گیا کہ انتقال محمد اسحاق یا اس کی زوجہ کوثر بی بی کے نام کردیا جائے۔

تنقیح:

سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اسٹام میں رقم زیادہ اس لیے لکھوائی گئی تھی تاکہ محمد ایوب خریدنے کی حامی نہ بھرے،کیونکہ اس سے پہلے اسے ایک زمین بیچی گئی تو اس کی قیمت کی ادائیگی میں بہت سستی سے کام لیا گیا،جبکہ یہاں فروخت کنندہ کو فوری رقم کی ضرورت تھی۔

نیز معاملہ ختم کرنے کا دباؤ ڈالنے والوں کا اس زمین میں کوئی حق نہیں ہے اور محمد اسحاق جو کہ فروخت کنندہ ہے وہ اس معاملے میں ان کے ڈر اور خوف کی وجہ سے خاموش ہے،دلی طور پر وہ اس معاملے کو ختم کرنے پر رضامند نہیں،کیونکہ فروخت کنندہ کا بھائی محمد اسماعیل محمد ایوب کے ساتھ مل کر اس معاملے کو اس لیے ختم کرانا چاہتا ہے کہ محمد ایوب اس زمین کو خریدنا چاہتا ہے اور محمد ایوب قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والا شخص ہے،جس کی وجہ سے محمد اسحاق اسے فروخت کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

o

1۔ خریدوفروخت کامعاملہ مکمل ہوجانے کے بعد خالد حمید اس زمین کا مالک بن چکا ہے،اب اس معاملے کو ختم کرنے کا مدار خریدنے اور بیچنے والے دونوں کی باہمی رضامندی پر ہے،اگر وہ لوگ کسی وجہ سےباہمی رضامندی سے اس معاملے کو ختم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں،لیکن کسی تیسرے فریق کو اس کا اختیار حاصل نہیں،لہذا ان دونوں کی رضامندی کے بغیر کسی تیسرے فریق کو ایسے اقدام کی نہ شرعی طورپر اجازت ہے اور نہ قانونی اور اخلاقی طور پر ۔

2۔چونکہ مذکورہ زمین ابھی تک خالد حمید کے قبضے میں ہے اور وہ اسے فریق مخالف کو واپس دینے پر راضی نہیں ہے،اس لیے جرگے میں زبردستی کیے گئے فیصلے کی بنیاد پر خالد حمید کو جو رقم دی گئی ہے وہ ساری کی ساری اس کے پاس فی الحال امانت ہے،کیونکہ اس معاملے کی صحت اس کی رضامندی پر موقوف ہے۔

البتہ اگر خالد حمید اس زمین کو خریدی گئی قیمت پر انہیں نہیں دینا چاہتا،بلکہ اس سے زیادہ پر دینا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان سے سابقہ معاملے سے ہٹ کر نیا سودا کرے،اس صورت میں وہ محمد اسماعیل سے مذکورہ زمین کی اپنی مرضی کے مطابق جتنی چاہے قیمت وصول کرسکتا ہے،لیکن سابقہ معاملے کی قیمت کو بنیاد بناکر غلط بیانی کے ذریعے اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے۔  

3۔شرعی لحاظ سے خالد حمید کا یہ مطالبہ صحیح ہے ،کیونکہ فروخت کے لیے بنیادی طور پر معاملے کرنے والوں کی باہمی رضامندی ضروری ہے،اس کے بغیر خریدوفروخت کا معاملہ درست نہیں ہوتا،لہذا اگر خالد حمید کو زبردستی مذکورہ زمین کی قیمت واپس دے کر اس سے زمین لی جارہی ہے اور وہ ان لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایسا کررہا ہے تو جب تک وہ اس پر دلی طور پررضامند نہ ہوجائے تب تک یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا اور زمین واپس لینے والوں کے لیے اس زمین سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (5/ 308):
وأما شرائط صحة الإقالة (فمنها) رضا المتقايلين أما على أصل أبي يوسف فظاهر؛ لأنه بيع مطلق، والرضا شرط صحة البياعات.
وأما على أصل أبي حنيفة ومحمد وزفر فلأنها فسخ العقد، والعقد لم ينعقد على الصحة إلا بتراضيهما أيضا".
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 176)
(ومنها) الرضا لقول الله تعالى: {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] عقيب قوله - عز اسمه - {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} [النساء: 29] وقال - عليه الصلاة والسلام -: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب من نفسه» فلا يصح بيع المكره إذا باع مكرها وسلم مكرها؛ لعدم الرضا،
"الدر المختار " (6/ 131):
"(فإن قبض ثمنه أو سلم) المبيع (طوعا) قيد للمذكورين (نفذ) يعني لزم لما مر أن عقود المكره نافذة عندنا، والمعلق على الرضا والإجازة لزومه لانفاذه إذ اللزوم أمر وراء النفاذ كما حققه ابن الكمال.
قلت: والضابط أن ما لا يصح مع الهزل ينعقد فاسدا فله إبطاله وما يصح فيضمن الحامل كما سيجيء (وإن) (قبض) الثمن (مكرها لا) يلزم (ورده) ولم يضمن إن هلك الثمن لأنه أمانة درر (إن بقي) في يده لفساد العقد".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: نفذ) لوجود الرضا. (قوله: لما مر) تعليل لتفسير النفاذ باللزوم، ومقتضاه أن النفاذ واللزوم متغايران فيراد بالنفوذ الانعقاد وباللزوم الصحة فبيع المكره نافذ أي منعقد لصدوره من أهله في محله والمنعقد منه صحيح. ومنه فاسد، وهذا العقد فاسد، لأن من شروط الصحة الرضا، وهو هنا مفقود فإذا وجد صح ولزم، وهذا موافق لما مر أن النافذ مقابل للموقوف، فإن الموقوف كما في بيوع البحر ما لا حكم له ظاهرا يعني لا يفيد حكمه قبل وجود ما توقف عليه، وهذا يفيد حكمه وهو الملك قبل الرضا لكن بشرط القبض كما في سائر البيوع الفاسدة وهذا منها عندنا كما صرحوا به قاطبة خلافا لزفر.
فظهر بهذا التقرير: أن اللزوم أمر وراء النفاذ كما حققه ابن الكمال حيث نقل عن شرح الطحاوي أنه إذا تداولته الأيدي، فله فسخ العقود كلها وأيا أجازه جازت كلها لأنها كانت نافذة إلا أنه كان له الفسخ لعدم الرضا اهـ فهذا صريح في أن النفاذ كان موجودا قبل الرضا، وأن الموقوف على الرضا أمر آخر، وهو لزومها وصحتها فتعين أن يفسر قوله: نفذ ب لزم وبالجملة فالرضا شرط اللزوم لا النفاذ، ولكن هذا مخالف لما في كتب الأصول كالتوضيح والتلويح والتقرير وشرح التحرير وشروح المنار حيث قالوا: إن بيع المكره ينعقد فاسدا لعدم الرضا الذي هو شرط النفاذ، فلو أجازه بعد زوال الإكراه صريحا أو دلالة بقبض الثمن أو تسليم المبيع طوعا صح لتمام الرضا، والفساد كان لمعنى وقد زال اهـ وهذا موافق لما قاله المصنف، ولقول صدر الشريعة إن الإكراه يمنع النفاذ فالمراد في كلامهم بالنفاذ اللزوم فهما بمعنى واحد وهو الصحة. وبه يحصل التوفيق بينه وبين ما في شرح الطحاوي وظهر به أن تعبير المصنف بقوله: نفذ كالوقاية والدرر لا اعتراض عليه، ولا لوم لموافقته لكلام القوم، واندفع تشنيع ابن الكمال المار على صدر الشريعة بالكلمات الفظيعة، والله تعالى الموفق لا رب سواه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

16/محرم1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔