021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حمل کی حالت میں بیوی کو مارنا
69928جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا حمل کی حالت میں بیوی کو مارنا شرعا جائز ہے؟

o

عام حالات میں بھی جبکہ بیوی حاملہ نہ ہوشریعت میں بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے، معمولی معمولی باتوں پر،یا بسا اوقات اس سے کسی ایسے فعل کے سرزد ہوجانے پر جو شوہر کے مزاج کے خلاف ہو،یا کسی اور کے شوہر کو بیوی کے خلاف بھڑکانے پر بیوی کو تکلیف دینا اور مارنا شرعا جائز نہیں،بلکہ ایسی صورت میں اسے نرمی سے سمجھانے کا حکم دیا گیا ہے،البتہ اگر متعدد بار سمجھانے کے باوجود وہ جان بوجھ کر اس غلطی کو دہرائے تو پھر شریعت نے بستر علیحدہ کرنے کی اجازت دی ہے،اگر یہ بھی کارگر نہ ہو تو پھرایسی ہلکی پھلکی مار کی گنجائش ہے جس سے جسم پر نشان نہ پڑے ۔

لہذا مذکورہ صورت میں شوہر کا بیوی کو اس طریقے سے مارنا کہ اسے اپنی اور بچے کی جان تک کا خطرہ لاحق ہو،ہرگز جائز نہیں۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (2/ 334):
"ومنها ولاية التأديب للزوج إذا لم تطعه فيما يلزم طاعته بأن كانت ناشزة، فله أن يؤدبها لكن على الترتيب، فيعظها أولا على الرفق واللين بأن يقول لها كوني من الصالحات القانتات الحافظات للغيب ولا تكوني من كذا وكذا، فلعل تقبل الموعظة، فتترك النشوز، فإن نجعت فيها الموعظة، ورجعت إلى الفراش وإلا هجرها.
وقيل يخوفها بالهجر أولا والاعتزال عنها، وترك الجماع والمضاجعة، فإن تركت وإلا هجرها لعل نفسها لا تحتمل الهجر.....
 فإذا هجرها، فإن تركت النشوز، وإلا ضربها عند ذلك ضربا غير مبرح، ولا شائن، والأصل فيه قوله عز وجل {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن} [النساء: 34] ، فظاهر الآية وإن كان بحرف الواو الموضوعة للجمع المطلق لكن المراد منه الجمع على سبيل الترتيب، والواو تحتمل ذلك، فإن نفع الضرب، وإلا رفع الأمر إلى القاضي ليوجه إليهما حكمين حكما من أهله، وحكما من أهلها كما قال الله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما} [النساء: 35]".

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

17/محرم1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔