021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اڑتیس سال کی عمر میں والدین کو اعتماد میں لیے بغیر نکاح کرنا
74074نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

ہم چار بھائی ہیں جو ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں،اس گھر میں چار الگ الگ پورشن ہیں،چاروں بھائی علیحدہ علیحدہ منزلوں میں رہتے ہیں،گھر میری والدہ کے نام ہے اور میرے والد اور والدہ دونوں حیات ہیں،جس وقت یہ گھر بن رہا تھا میں نے خواہش ظاہر کی کہ والدین میرے ساتھ رہیں گے اور بعد میں اس بات کے نتیجے میں یہ ہونے لگا کہ جس کی جب مرضی ہوتی کسی بھی وقت میرے پورشن میں والدین سے ملنے کی غرض سے آنے لگا ور میرے چھوٹے بھائی کے بچے تو تقریبا اپنے دن کا زیادہ تر حصہ میرے پورشن میں ہی گزارنے لگے،اس ہر وقت کی آمد و رفت اور بچوں کا تقریبا میرے ہی پورشن میں رہنے سے میری ذاتی اور سابقہ ازدواجی زندگی پر بہت برا اثر پڑا اور جب میں نے اس کا اپنی والدہ سے اظہار کیا تو وہ مجھے یہ کہہ چپ کروادیتی کہ تم نے غلطی کی تھی جو ہم کو اپنے ساتھ رکھا،یہ تو ہوگا اور کچھ نہیں کیا۔

آج جب الگ پورشن میں رہنے کی بات کررہا ہوں،جہاں میں اپنی مرضی سے سکون سے رہ سکوں،کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے بھائیوں کی طرح ایک علیحدہ پورشن میرا بھی شرعی اور قانونی حق ہے،جبکہ میری والدہ اس بات پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور اس ضمن میں  جو وعدہ کرتی ہے کہ فلاں تاریخ کو شفٹ کردوں گی،وقت آنے پر وہ اپنے وعدے سے کوئی بھی عذر پیش کرکے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔

مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ وہ یہ کام اس لیے نہیں کرتی کہ کہیں میں اپنے معاملات میں اپنی مرضی نہ چلاؤں اور کسی سے اپنی مرضی سے دوسری شادی نہ کرلوں،جبکہ میری عمر 38 سال ہے اور شادی سے پہلے ہم سب بھائیوں نے جو کمایا وہ سب اپنی والدہ کو دیا،جس کی وجہ سے یہ گھر بھی بن سکا ہے،مزید یہ کہ میں نے گھر چھوڑنے کا بھی اس وجہ سے ارادہ کیا،لیکن انہوں نے مجھے جانے نہیں دیا اور روکر ایک مہینے کے اندر شفٹنگ کے وعدے کے ساتھ روکا اور پھر ایک مہینے بعد کسی عذر کی بناء پر اپنے اس وعدے کو پورا نہ کرنے کا بتایا۔

اس تفصیل کی روشنی میں مجھے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔کیا میں بالغ ہونے کے باوجود اپنے رشتہ ازدواج میں اپنے والدین یا بڑے بھائیوں کی کسی بھی قسم کی مرضی کا پابند ہوں کہ مجھے کس کے ساتھ شادی کرنی ہے یا رہنا ہے یا نہیں رہنا؟

o

(1)نکاح والدین اور اولیاء بلکہ تمام قریبی رشتہ داروں کو شامل کرکے انجام دینا چاہیے،کیونکہ شادی کوئی عارضی اور وقتی چیز نہیں،بلکہ زندگی بھر کا معاملہ ہے،اس لیے اس کی انجام دہی کے لیے غور وفکر،تجربہ اور بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں بالعموم ایک لڑکے اور لڑکی کے فیصلے میں نہیں پائی جاتیں،کیونکہ عموما لڑکا اور لڑکی محض وقتی محبت اور جذباتی کیفیت کی بنیاد پر یہ اقدام کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ والدین کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جانے والے عدالتی نکاح دونوں خاندانوں کے درمیان بہت سی ناچاقیوں اور اختلافات کا سبب بنتےہیں اورعمومانوبت طلاق یا قتل و قتال تک پہنچ جاتی ہے،جس کے نتیجے میں دونوں خاندان ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کےدشمن بن جاتے ہیں،اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

لیکن جس طرح اولاد کے ذمے والدین کی مرضی اور خواہش کی رعایت رکھنا لازم ہے اسی طرح والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اولاد کے نکاح کے وقت اپنی اولاد کی پسند کا خیال رکھیں،چنانچہ شرعا والدین کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بالغ لڑکے یا لڑکی کو کسی ایسی جگہ نکاح پر مجبور کریں جو انہیں پسند نہ ہو اور اگربالغ لڑکے یا لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح کر بھی دیا گیا اورلڑکےلڑکی نے قبول نہیں کیاتو وہ ان کی اجازت پر موقوف رہے گا،بغیر ان کی اجازت کے نکاح نافذ نہیں ہوگا،لہذا اگر آپ پسند کی شادی کرنا چاہیں اور رشتہ نہ کرنے کا کوئی معقول عذر نہ ہو تو والدین اور آپ کے بڑے بھائیوں  کو اس رشتے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

حوالہ جات

"الدر المختار"(3/ 58):
"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت) فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد سراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن)".
قال ابن عابدين رحمه الله:"(قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح:فلان يخطبك أويذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها،بحر عن المحيط".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/صفر1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔