021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرانی مسجد کے حدود میں وضو اور طہارت خانے تعمیر کرنے کا حکم
70190وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہمارے بزرگوں نے تقریباً 60 سال  پہلے ایک مسجد تعمیر کی تھی ، جوکہ کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی ۔ وضو اور طہارت کے لیے مسجد کے عقب میں  ایک جگہ تقریباً 200 فٹ دور تھی ، جوکہ مسجد کی جگہ نہ تھی ،بلکہ شارع عام کے قریب تھی ۔ مسجد کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے برادری کے اصرار پر اس کو شہید کیاگیا ۔ پرانی مسجد کے عقب میں نئی مسجد کی بنیاد رکھی  گئی ۔ 2009 ء میں اس کی تعمیر مکمل کرکے متولی و امام مسجد کے حوالے کردی گئی۔ پرانی مسجد کے جنوب مشرقی کونہ میں جہاں پہلے نمازیں پڑھی جاتی تھیں ،اب وہاں وضوخانہ اور طہارت خانے بنائے گئے ہیں ۔ پرانی مسجد کے جنوب کی جانب 3 فٹ کا ایک راستہ وضوخانہ اور طہارت خانہ کے  جانے کے لیے بنارہے تھے کہ  ایک عالم صاحب نے فرمایا کہ آپ جوتیوں کے ساتھ مسجد سے گزر نہیں سکتے ،نیز آ پ لوگوں نے  وضو اور طہارت خانے جو پرانی مسجد کے حدود میں بنائے ہیں ، درست  نہیں  ہیں ۔ لہذا اس کا فتوی لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ،ورنہ آپ گنہگار ہوں گے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا اس طرح پرانی مسجد کے حدود میں وضو اور طہارت خانے تعمیر کرنا درست ہیں یا نہیں ؟

o

واضح رہے کہ مسجد بنانے کے لئے وقف زمین کی جس جگہ  پرایک دفعہ شرعی  مسجد(مسجد کا وہ حصہ  جہاں نماز پڑھی جاتی ہے)   بن جائے وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہےاور اس میں کوئی ایسا تصرف کرنا جس کی وجہ سے اس کی مسجدیت ختم ہو جائے اور اس میں نماز نہ پڑھی جا سکے شرعا ً جائز نہیں ہے۔

مذکورہ زمین کے جس حصے پر  مسجد تعمیر کی گئی تھی تو شہید کرنے کے بعد  اس جگہ پر وضوخانے  اور  طہارت خانے بنانا، اسی طرح گزرگاہ کے لیے راستہ بنانابالکل ناجائز ہے ، بلکہ توسیع کرتے ہوئے اس حصہ کو مسجدِشرعی میں ہی شامل کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ وہ جگہ اب بھی شرعی مسجد ہے اور قیامت تک شرعی مسجد ہی رہے گی ۔اس جگہ کا احترام مسجدِشرعی کے احترام کی طرح لازم ہے ،لہذا فوری طور پر  ان وضوخانوں اور طہارت خانوں  کا استعمال بند کر دیا جائے،اور ان کے لئے متبادل انتظام کر کے اس حصے کو بھی نئی مسجد کے ساتھ شامل کیاجائے ۔ نیز اس فعل پر اللہ کے حضور توبہ و استغفار بھی کی جائے ۔

حوالہ جات

الدر المختار - (4 / 358)
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة
المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة - (5 / 285)
ويكره الوضوء في المسجد إلا أن يكون فيه موضع اتخذ لذلك، ولا يصلى فيه، وفي «القدوري»: كره أبو حنيفة وأبو يوسف الوضوء في المسجد، وقال محمد: لا بأس به إذا لم يكن عليه قذر
حاشية ابن عابدين (4/ 358)
( ولو خرب ما حوله ) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر  قوله ( عند الإمام والثاني ) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى  حاوي القدسي  وأكثر المشايخ عليه  مجتبى  وهو الأوجه فتح ا هـ
 رد المحتار (4 / 358):
قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله}

طلحہ بن قاسم

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

14/02/1442

n

مجیب

طلحہ بن قاسم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔