021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاؤں بوڑی ساغری {شکردرہ کوہاٹ}میں جمعہ کےجواز کافتوی
70335نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

ہماراعلاقہ شکردرہ تین حصوں پرمشتمل ہے۔

اربن یونین کونسل رولر نمبر 1

یونیل کونسل رولرنمبر 2،ہم رولرنمبر 2 میں رہتےہیں،جس کانام بوڑی ساغری ہے،اوربوڑی ساغری میں دوگاؤں ہیں،ایک نندرکر دوسرا  بوڑی ،ہم نندرکرمیں رہتےہیں۔بوڑی ساغری اربن شکردرہ شہرسےکم ازکم تین یاساڑھے تین کلومیٹر دورہے۔

یہ علاقہ شکردرہ کےمضافات میں شمارہوتاہے،لیکن فاصلہ تین یاساڑھے تین کلومیٹر ہے۔

اورکاغذات کےاعتبارسے یعنی یونین کونسل کےلحاظ سےشکردرہ سے الگ ہے۔

ایک مفتی صاحب نےبوڑی ساغری میں نمازجمعہ کےجوازکافتوی دیاہے،جبکہ وہاں پرصرف ایک دکان ہے،اس کےعلاوہ نہ کوئی بازارہےنہ کوئی ہسپتال نہ کوئی مارکیٹ  وغیرہ،یعنی مذکورہ جگربوڑی ساغری  میں جمعہ کی شرائط میں سےکوئی شرط نہیں  پائی جاتی،اب میں نندرکرمیں رہتاہوں جوکہ بوڑی ساغری کی آخری حدہے،اس کےبعدرولرنمبر2 کاعلاقہ شروع ہوتاہے۔

دوسری بات یہ ہےکہ بوڑی ساغری کی ضروررتیں شکردرہ کےبازارسےپوری ہوتی ہیں،اورلوگ بذریعہ گاڑی 5سے6 منٹ میں بازارپہنچ جاتےہیں۔

تیسری بات یہ کہ شکردرہ کی کچھ اذانیں بھی بوڑی ساغری میں سنائی دیتی ہیں،یونین بننےسےپہلےلوگ بوڑی ساغری کوشکردرہ کاحصہ سمجھتےتھے،اب بھی جن کویونین بننےکامعلوم نہیں وہ اس کواسی کاحصہ سمجھتےہیں۔

بوڑی ساغری میں تقریبا 7 یا8دفعہ الیکشن ہوئےہیں،ہردفعہ  بوڑی ساغری کوالگ یونین اورالگ نمبر دیتےہیں۔

چوتھی بات یہ کہ میرےگاؤں کانام سرکئی ہے،جوکہ بوڑی سےتین یاساڑھے تین کلومیٹر دورہے،ہمارےبعدبھی ایک گاؤں اورہے،جن کانام بڈاسم ہےوہ بھی تقریبا بوڑی سے4 کلومیٹردورہے،بوڑی کےاردگرد تقریبا 6سے7 گاؤں ہیں،ان میں سےبعض آدھےکلومیٹربعض دوکلومیٹراوربعض تین کلومیٹرکےفاصلےپرواقع ہیں،ان سب گاؤں کاقبرستان بھی  ایک ہے،جوکہ بوڑی کےقریب متصل واقع ہے،ہمارےگاؤں والے(سرکی،بڈاسم،نصیبی،اوردیگر گاؤں والے)بوڑی کےراستےبازارجاتےہیں،اورہم سب کاقبرستان ایک ہےکہ بوڑی کےمتصل واقع ہے۔

پچھلےرمضان کے آخری ہفتےہیں جمعہ کی نماز بوڑی میں شروع ہوئی،اورساتھ قبرستان کےساتھ ایک جگہ ہےوہاں پرپچھلےرمضان سےعیدالفطرکی نمازبھی شروع کی گئی ہے،حالانکہ بوڑی میں جمعہ کی 6 یا7 شرائط میں سےکوئی ایک بھی شرط نہیں پائی جاتی ۔

جس مفتی صاحب نےنمازجمعہ کےجوازکافتوی دیاہے،اس نےمذکورہ جگہ کامعائنہ کرکےاس کےبعدجمعہ پڑھنےکی اجازت دی ہے۔یہ مفتی صاحب کوہاٹ ڈسٹرکٹ کے خطیب ہیں،نہ کہ قاضی،کمشنر اورڈپٹی کمشنر۔

اس تفصیل کےبعد درج ذیل سوالات ہیں۔

۱۔مذکورہ جگہ بوڑی میں جمعہ کی نماز جائزہےیانہیں؟اگرجائزنہ ہوتواس کوتوبند کرناممکن ہی نہیں ہے،کیونکہ ان سب کاکنٹرول غیرعلماء کےپاس ہے،اگرامام صاحب کوہم قائل کریں تب بھی ممکن نہیں ہے،کیونکہ امام کی قائل کرنےکی صورت میں وہ لوگ دوسرامام لےکرآئیں گے،اگرہم زبردستی کرنےکی کوشش کریں توفساداورجھگڑےکاخطرہ ہے۔

۲۔اگراس صورت میں ہم  ڈپٹی کمشنر یاکمشنرسےاجازت لےکراس نمازجمعہ کوبندکرانےکے بجائےجمعہ جاری رکھیں توکیساہےکیونکہ ہم تواس کوبند نہیں کرسکتے،برائےمہربانی کوئی جوازکی صورت نکال لی جائے۔

تنقیح:مستفتی کی وضاحت کےمطابقعلاقےکےاکثرعلماء کی رائےیہ ہےکہ گاؤں بوڑی ساغری میں جمعہ جائزنہیں،کیونکہ اس میں شہرکی ضروریات نہیں پائی جاتی۔گاؤں شکردرہ کاباقاعدہ الگ سےبڑاقبرستان موجودہے،بوڑی ساغری کےقریب جوقبرستان ہے،وہ چھوٹاہے،اوراس میں قریب قریب کےمختلف گاؤں کےلوگ وہاں جاکردفناتےہیں۔

o

۱۔شرعاجمعہ کے جائزہونےکے لئےضروری ہے کہ مصرجامع(بڑاشہر)ہو(عام طورپرعرف عام میں اسے شہرکہاجاتاہو)یاقریہ کبیرہ(بڑی بستی)جس میں دورویہ بازارہواورضرورت کی ساری چیزیں مہیاہوں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی سے(مصرجامع کے بارے میں) منقول ہے کہ ایسی جگہ"جس میں گلیاں اوربازارہوں،اوراس میں والی(قاضی)بھی ہوجو مظلوم کوظالم سےانصاف دلانے پرقادرہواورلوگ پریشانی میں اس کی طرف رجوع بھی کرسکیں"قریہ کبیرہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ گاؤں میں(مستفتی کی وضاحت کےمطابق)چونکہ ضروریات زندگی کی اکثرچیزیں دستیاب نہیں ہیں،ضروریات کےلیےدوسرےشہرشکردرہ وغیرہ جاناپڑتاہے،اس لیےمذکورہ گاؤں میں جمعہ وعیدین پڑھناجائزنہیں ہے۔

۲۔موجودہ صورت میں امام صاحب،مفتی صاحب اورمسجد والوں کوعلاقےکےمعتبرعلماءکرام کےذریعہ حکمت ومصلحت کےساتھ سمجھانےکی کوشش کی جائے،فی الحال اگروہاں جمعہ کوختم کرنےمیں فساوغیرہ کاخطرہ ہوتوجمعہ جاری رکھاجاسکتاہے،لیکن بعدمیں مستقبل بنیادوں پراس کوختم کرنےکی کوشش کی جائے(کمشنرسےجمعہ کی اجازت سےمتعلق تفصیل اگلےمسئلےمیں موجودہے)

حوالہ جات

"رد المحتار" 6 / 41:( ويشترط لصحتها ) سبعة أشياء : الأول : ( المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها ) وعليه فتوى أكثر الفقهاء. مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى ۔
"رد المحتار" 6 / 44:
وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔۔۔
"الهداية" 1 / 829 : والمصر الجامع : كل موضع له أمير وقاض ينفد الأحكام ويقيم الحدود۔۔۔
"حاشية رد المحتار" 2 / 148:في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الاصح۔۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

02/ربیع الاول1442 ھج

 

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔