021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فوت ہونے والے شخص کے ورثاء کو جو رقم کمپنی کی جانب سے تبرعاً ملے وہ کس کا حق ہوگی؟
70445میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا بیٹا وقاص طارق، میری بہو ندا وقاص، میری پوتی آئمہ وقاص اور میرا پوتا عالیان وقاص لاہور سے کراچی آتے ہوئے پی آئی اے کے طیارہ حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔ میرا بیٹا وقاص اور بہو ندا دونوں ملازمت کرتے تھے۔ پی آئی اے نے طیارہ حادثے میں شہادت پانے والے مسافروں کے ورثاء کے لیے رقم کا اعلان کیا ہے۔ اس رقم کا حق دار کون ہے؟

o

سوال میں مذکور صورت میں اگر پی آئی اے کمپنی یہ رقم بطور تعاون اپنی جانب سے دیتی ہے تو یہ کمپنی کی جانب سے تبرع ہوگی اور یہ رقم جس کے نام پر جاری کی جائے گی اس کا حق ہوگی۔ اگر کمپنی نے یہ رقم مطلقاً ورثاء کے لیے جاری کی ہے  تو میت کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

(الهبة) لغة: التبرع والتفضل بما ينفع الموهوب مطلقاً، وشرعا: تمليك عين بلا عوض.
(اللباب في شرح الكتاب، 2/171، ط:المكتبة  العلمية)
 
قال الحصكفيؒ: " (ولورثة فلان للذكر مثل حظ الأنثيين) لأنه اعتبر الوراثة."
علق عليه ابن عابدينؒ: " (قوله: لأنه اعتبر الوراثة) أي والوراثة بين الأولاد والأخوات كذلك ولأن التنصيص على الاسم المشتق يدل على أن الحكم يترتب على مأخذ الاشتقاق فكانت الوراثة هي العلة زيلعي، وظاهره أن قوله - {للذكر مثل حظ الأنثيين} - ليس عاما في جميع الورثة بل خاص بالأولاد والإخوة والأخوات، وفي غيرهم يقسم على قدر فروضهم وهو المذكور في الإسعاف والخصاف في مسائل الأوقاف والوصية أخت الوقف."
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/687، ط: دار الفكر)

محمد اویس پراچہ           

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

تاریخ: 17/ ربیع الاول 1442ھ

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔