021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹیوں کی میراث کاحکم
70507میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محمد  احمد{فرضی نام }مرحوم کا  گذشتہ   سال  ربیع الاول  1441ھ میں انتقال ہوگیا ،ان کی بیوی نے انتقال سے پہلے ہی طلاق  لےکر  دوسری جگہ شادی  کرلی تھی ، والد اور ایک چچا بھی پہلے فوت  ہوچکے تھے،مرحوم کے انتقال کے وقت مندرجہ  ذیل  ورثا  زندہ  رہ گئے ۔

1۔ والدہ 2۔ دوبٹیاں 3۔چھ بہنیں 4۔ایک چچا ان کے چار بیٹے اور  دوبٹیاں  بھی حیات ہیں ،5۔ فوت شدہ  چچا کی اولاد  پانچ بیٹے اور ایک بیٹی بھی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ  محمد  احمد مرحوم کے وارث  کون کون ہونگےمیراث کی  تقسیم کاکیا  طریقہ ہوگا؟

مرحوم کی دونوں بٹیاں اپنی مطلقہ ماں کے پاس ہیں ان کو اپنے والد کی میراث سے حصہ ملے  گا یانہیں ؟ ان کو حصہ نہ دیاجائے  تو کوئی گناہ تو ہوگا؟

o

مرحوم محمد  احمد کی ملکیت میں انتقال کے وقت  منقولہ غیر منقولہ  جائداد  ، نقدی ،سونا  چاندی  اور چھوٹا  بڑا جو بھی سامان تھا سب مرحوم کاترکہ  ہے ،تقسیم کا شرعی  طریقہ یہ ہے  کہ اولا اس میں سے کفن دفن کا متوسط خرچہ  نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا  قرض ہو اس کو چکایا جائے ۔اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز  وصیت کی ہو  تو تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیاجائے ، اس کے بعدمال کو  مساوی  36 حصوں  میں تقسیم کرکے مرحوم کی والدہ  کو چھ حصے ، اور مرحوم کی دونوں بٹیوں میں سے ہر ایک کو 9 حصے  اور مرحوم کی چھ بہنوں میں سے  ہر ایک کو 2 حصے  دئے جائیں گے۔

فیصدی تناسب سے تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا۔

والدہ کاحصہ =  ٪ 666 . 6 1

دونوں بٹیوں میں سے ہر ایک کا حصہ= ٪ 333. 33

 چھ بہنوں میں سے ہرایک کا حصہ =   ٪  77. 2

نوٹ ؛ جواب میں  جن ورثا  كا حصه  لكھا گیا  ہے ، صرف وہی لوگ  محمد  فاروق مرحوم کے ترکہ کا حقدارہیں ان کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کو ان کے ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا ۔

حوالہ جات

لقولہ  علیہ  السلام ؛ اجعلواالاخوات  مع البنات  عصبة  ۔سراجیہ ص 11

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید    کراچی

١۸ ربیع الاول  ١۴۴۲ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔