021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متولی سے مسجد کی تعمیر کا اختیار لے کر مدرسے میں مالی تعاون کا حکم
70517وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

احقر، حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ تعالی کا ادنیٰ خلیفہ اور مجازِ بیعت ہے۔ سلسلہ کے حوالے سے میں مسجد اور خانقاہ کے لیے سرگودھا کے علاقے جھاوریاں میں مختلف جگہیں دیکھ رہا تھا۔ اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ ایک دوست قاری صاحب کو کسی ساتھی نے بارہ مرلہ کا پلاٹ مسجد کی تعمیر کے لیے دیا ہے، اس قاری صاحب کے پاس پہلے سے ایک مسجد موجود ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر آپ یہ پلاٹ مسجد بنانے کے لیے مجھے دیدیں تو میں ان شاء اللہ اس پر مسجد بنالوں گا، اور اس کے ساتھ پڑی جگہ سے خانقاہ اور گھر کے لیے کچھ مزید جگہ خرید کر سیٹ اپ بنالیتا ہوں۔ میرے ایک اور دوست مفتی صاحب نے یہ بات چلائی، اس پر قاری صاحب نے کہا کہ میرے پاس پہلے سے جو مسجد ہے، اس کے ساتھ چھوٹا سا مدرسہ بھی ہے، میرا ارادہ ہے کہ مدرسہ میں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر کچھ طلبا کو نئی مسجد منتقل کردوں گا۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر پرانی مسجد کے ساتھ مدرسہ کے لیے کوئی جگہ مل سکتی ہے تو ان شاء اللہ میں اس مد میں سات (7) لاکھ تک تعاون کرلوں گا، تاکہ مدرسے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے اور نئی مسجد بھی ان شاء اللہ میں تعمیر کرلوں گا۔ اس قاری صاحب نے نئی مسجد کے لیے پلاٹ دینے والوں سے بات کی، انہوں نے کہا اللہ کا گھر بنانا ہے، اگر یہ ساتھی بنالے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب میرے کچھ اچھے دوست علمائے کرام نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ آپ قاری صاحب کو مدرسے کے پلاٹ کے لیے پیسے مسجد کے پلاٹ کی وجہ سے دے رہے ہیں، اس لیے قاری صاحب پر مسجد کا پلاٹ بیچنے کا الزام بنتا ہے، لہٰذا اس مسئلہ کی مفتیانِ کرام سے تحقیق کروالینی چاہیے، مبادا کہیں ہمارا طریقہ خلافِ شرع نہ ہو۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہے۔

o

اگر مذکورہ قاری صاحب مسجد کے لیے زمین دینے والے حضرات کی اجازت سے اس زمین پر مسجد تعمیر کرنے کا اختیار آپ کو دینا چاہے تو یہ درست ہے، لیکن اس کے عوض میں وہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ البتہ اگر وہ اپنے لیے عوض کا مطالبہ نہ کرے، بلکہ دوسرے وقف یعنی مدرسہ میں تعاون کی شرط لگائے اور آپ مدرسے کے لیے رقم دے، یا شرط لگائے بغیر آپ اپنی طرف سے ان کا نیک مقصد سامنے رکھتے ہوئے مدرسے کے لیے زمین کی خریداری اور تعمیر کے سلسلے میں تعاون کریں تو یہ دونوں صورتیں ٹھیک ہیں۔

اور جب وہ مسجد کی تعمیر کا اختیار آپ کو منتقل کردیں تو آپ پر شرعا لازم ہوگا کہ وہاں وقف مسجد تعمیر کریں، اس زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا کسی صورت جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح آپ ان کو مدرسے کے لیے جو رقم دیں گے، ان کی شرعی ذمہ داری ہوگی کہ اسے پوری دیانت داری کے ساتھ مدرسے کے لیے پلاٹ کی خریداری اور اس کی تعمیر میں لگائے، اس رقم کو ذاتی استعمال یا آپ کے بتائے ہوئے مقصد کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (3/ 634):

حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا أبو عامر العقدي حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده  أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: "الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراماو والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أوأ حل حراما."  قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح.

الدر المختار (4/ 425):

( أراد المتولي إقامة غيره مقامه في حياته ) وصحته ( إن كان التفويض له ) بالشرط ( عاما صح ) ولا يملك عزله إلا إذا كان الواقف جعل له التفويض والعزل.

رد المحتار (4/ 425):

مطلب للناظر أن يوكل غيره:  قوله ( أراد المتولي إقامة غيره مقامه ) أي بطريق الاستقلال.  

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

21/ربیع الاول/1442ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔