021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر قانونی کام کے لیے اپنا پاسپورٹ کرایہ پر دینااوراس کی اجرت لینا
70577اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

آج کل جو لوگ باہرکے ملکوں (خاص کر عرب امارات) سے پاکستان چھٹی پر یا ویزاکینسل کرکے آتے ہیں تو پاکستان میں کچھ لوگ ان کو بولتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنا پاسپورٹ دیدیں ہم اس پر نئی (زیرومیٹر) گاڑی نکالتے ہیں (یاکچھ اورکام جو سائل کو پتہ نہیں کرتے ہیں) اورہفتہ دس دن کے بعد پاسپورٹ کے ساتھ 70یا80ہزارروپے دیدیتے ہیں تو پوچھنایہ ہےکہ مذکورہ صورت میں پاسپورٹ دینے والوں کے لیے پیسے لینا جائز ہے یانہیں ؟

سائل نے ایک مقامی مفتی صاحب سے پوچھا تو اس نے سائل کو بتایا کہ یہ لوگ اورسیز پاکستانیوں سے پا سپورٹ لے کر اس پر نئی گاڑی خریدلیتے ہیں اورپھر اس کو بیچ کر خود دو تین لاکھ یا زیادہ کماکر پاسپورٹ لینے والوں کو پاسپورٹ کے ساتھ 70۔80ہزارروپے دیتے ہیں اوریہ پیسے لینا جائزہے۔کیا واقعی اس پاسپورٹ پر پیسے لینا جائزہے ؟

کچھ سال پہلے جب یہ لوگ اورسیز پاکستانیون سے پاسپورٹ لیتےتھےتو اس وقت وہ پاسپورٹ والوں کو 10ہزارروپے دیتے تھے اورسائل کو   یہ بتاتے تھے کہ ہم لوگ اورسیزپاکستانیوں کی اس  پاسپورٹ کے ذریعے سامان وغیرہ منگواتے ہیں(پر یہ بات سائل کو یقینی طورپر نہیں کہ وہ اس پاسپورٹ سے کیا کرتے ہیں؟)اس حالت میں پاسپورٹ پریہ پیسے لینا جائز ہے یانہیں ؟

o

صورت ِ مسؤلہ میں اجرت پر پاسپورٹ لینا حق  کی بیع ہے اورحق کی بیع کے جواز کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ حق  مالک کئے لئے اصالۃً ثابت ہو ،اور  کسی چیز کی بیع کے لئے ایک اصولی شرط یہ  ہوتی ہے کہ مبیع عین ہو یا منفعتِ مؤ بدہ ہو ،اور مذکورہ صورت میں مبیع نہ عین ہے اورنہ ہی منفعت ِمؤبدہ ،بلکہ محض منفعتِ مؤقتہ (وقتی منفعت) کے حصول کے لئے پاسپورٹ خریدا جاتا ہے،نیز پاسپورٹ جس شخص کے نام پر جاری ہوتا ہے،صرف اسی کو قانونی طورپراس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے ،اس کےعلاوہ کسی دوسرے شخص کے لئے اس پاسپورٹ کو استعمال کرناقانوناً منع ہوتاہے ،کیونکہ  پاسپورٹ خریدنے والا اس کو  اپنا پاسپورٹ ظاہر کر کے قانونی فوائد حاصل کرتا ہے ،اور یہ  جھوٹ اور فریب ہے، جو کہ شرعا ً ناجائز  ہے ،لہذا اس طرح کسی شخص کا پاسپورٹ اجرت پرلیکرمذکورہ کاروبار کرنا شرعاً جائز نہیں ۔ یہ خلافِ قانون بھی ہے اوراس میں  دھوکہ بھی ہے،لہذا  پاسپورٹ  دینے  والا اور لینے والادونوں  گناہگار ہوں گےاورپاسپورٹ دینے والے کےلیے مذکورہ اجرت جائزنہیں،اگربےعلمی میں لے لی ہوتو اس کو صدقہ کرنا  واجب ہوگا ۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار (18/ 247):
لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك ) قال : في البدائع : الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها . أقول : وكذا لا تضمن بالإتلاف قال : في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان ؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا ، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن ؛
وفى الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف۔   (الدرالمختار على التنوير الابصار ، كتاب البيوع ، ج4، ص518)
الدر المختار (6/ 4):
هي ) لغة اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به يقال أعظم الله أجرك وشرعا ( تمليك نفع ) مقصود من العين ( بعوض ) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (122،2)
اما اذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص او شركة مخصوصة ،ولا يسمح القانون بنقلها الي رجل اخر او شركة اخري فلا شبهة في عدم جواز بيعها ،لان بيعه يؤدي حينئذ الي الكذب والخديعة ،فان مشتري الرخصة يستعملها  باسم البائع لا باسم نفسه ،فلا يحل ذالك الا بان يوكل حامل الرخصة بالبيع .
فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (4/ 264)
طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض وفی حاشية ابن عابدين تحتہ والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - صلى الله عليه وسلم - «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» وعن ابن عمر أنه  عليه الصلاة والسلام قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة.
سنن الترمذي لمحمد الترمذي - (ج 3 / ص 606)
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة من طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال يا صاحب الطعام ! ما هذا ؟ قال أصابته السماء يا رسول الله ! قال أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ؟ ثم قال من غش فليس منا قال وفي الباب عن ابن عمر و أبي الحمراء و ابن عباس و بريدة و أبي بريدة بن نيار و حذيفة بن اليمان . قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش وقالوا الغش حرام                  
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (8/ 35)
والتمكين من الحرام حرام، إلا أن قصد المعطي في هذا دفع الظلم عن نفسه لا التمكين من الحرام، فمن هذا الوجه لا يكون حراماً، ومن ذلك الوجه يكون حراماً.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1894)
مهر الزانية (خبيث) أي: حرام إجماعا لأنها تأخذه عوضا عن الزنا المحرم، ووسيلة الحرام حرام.
سنن الدارقطني (3/ 388)
عن ابن عباس , عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:  «إن الله تعالى إذا حرم شيئا حرم ثمنه»(والحدیث أخرجه أحمد 1/295، حديث رقم 2678، واللفظ له، وأخرجه أبو داود ص1483، كتاب البيوع، باب 64: في ثمن الخمر والميتة، حديث رقم 3488، وقال الألباني في صحيح أبي داود 2/370: صحيح.)
شرح رياض الصالحين (3/ 504)
قال النبي صلى الله عليه وسلم: ((إن الله إذا حرَّم شيئاً حرَّم ثمنه)) .فالأجرة على فعل الحرام حرام.
 وفی الدر المختار للحصفكي - (ج 4 / ص 472)
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا نعلم بينهم خلافا، كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالاعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في العقبى) مجتبى          

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 24/3/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔