021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
70608طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میرا  2010ء میں ایک مطلقہ عورت سے اس کے ماں باپ کی موجودگی میں نکاح ہوا. 2013 میں وہ اپنے والدین کے گھر ملنے گئی اور  واپس نہ آئی. میرے بار بار رابطہ کرنے پر اس نے کہا مجھےلے جاؤ. اس کے بعد میرا  جب بھی رابطہ ہوا ان کے گھر والوں سے ہوا. اب ان کے ایک رشتے دار کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ اس نے عدالت سے خلع لے کر دوسری جگہ شادی کر لی ہے اور اس کے بچے بھی ہیں. اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا ان سے نکاح باقی ہے یا ختم ہو چکا ہے؟ اب مجھے کیا کرنا ہے تاکہ مجھے کسی قسم کا گناہ نہ ہو ان سے میرا ایک بیٹا بھی ہوا تھا جس کا نام عبداللہ تھا.

تنقیحات :

1-مستفتی نے بتلایا کہ ان کی پہلے سے ایک اور شادی ہے اور بچے بھی ہیں

2-2013 اختلافات کے بعد ان کا اپنی بیوی یااس کے والدین سے رابطہ نہیں۔

3- اگر بیوی بسنا چاہے تو اسے بسانا چاہتا ہوں اور اگر طلاق لینا چاہے تو طلاق دینے پر بھی آمادہ ہوں۔اس مسئلے کا مکمل جواب تو دوسرے فریق کا موقف سننے اور عدالتی فیصلے کی تفصیلی رپورٹ کے بعد دیا جاسکتا ہے۔ تاہم آپ کی ذکر کردہ معلومات سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کولازمی طور پر بسانا نہیں چاہتے بلکہ آپ کے پاس  اسے طلاق دینے کا آپشن بھی ہے اور وہ بھی آپ کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی بلکہ وہ دوسری جگہ شادی کرچکی ہے اور وہاں سے اولاد بھی ہے، البتہ آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ اس صورت حال میں  کہیں آپ گنہگار نہ ہوں تو اس سلسلے میں ہمارے خیال میں سب سے بہتر حل یہی ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کوطلاق دے دیں اور انہیں یہ اطلاع کردیں کہ وہ تین ماہواریاں عدت گزرنے کے بعد تجدیدِ نکاح کرلیں۔ اس کے بعدآپ پر اس سلسلے میں ان شاءاللہ شرعاً کوئی ذمہ داری نہ رہے گی۔اس مسئلے کا مکمل جواب تو دوسرے فریق کا موقف سننے اور عدالتی فیصلے کی تفصیلی رپورٹ کے بعد دیا جاسکتا ہے۔ تاہم آپ کی ذکر کردہ معلومات سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کولازمی طور پر بسانا نہیں چاہتے بلکہ آپ کے پاس  اسے طلاق دینے کا آپشن بھی ہے اور وہ بھی آپ کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی بلکہ وہ دوسری جگہ شادی کرچکی ہے اور وہاں سے اولاد بھی ہے، البتہ آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ اس صورت حال میں  کہیں آپ گنہگار نہ ہوں تو اس سلسلے میں ہمارے خیال میں سب سے بہتر حل یہی ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کوطلاق دے دیں اور انہیں یہ اطلاع کردیں کہ وہ تین ماہواریاں عدت گزرنے کے بعد تجدیدِ نکاح کرلیں۔ اس کے بعدآپ پر اس سلسلے میں ان شاءاللہ شرعاً کوئی ذمہ داری نہ رہے گی۔

o

اس مسئلے کا مکمل جواب تو دوسرے فریق کا موقف سننے اور عدالتی فیصلے کی تفصیلی رپورٹ کے بعد دیا جاسکتا ہے۔ تاہم آپ کی ذکر کردہ معلومات سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کولازمی طور پر بسانا نہیں چاہتے بلکہ آپ کے پاس  اسے طلاق دینے کا آپشن بھی ہے اور وہ بھی آپ کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی بلکہ وہ دوسری جگہ شادی کرچکی ہے اور وہاں سے اولاد بھی ہے، البتہ آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ اس صورت حال میں  کہیں آپ گنہگار نہ ہوں تو اس سلسلے میں ہمارے خیال میں سب سے بہتر حل یہی ہے کہ آپ اپنی اس دوسری بیوی کوطلاق دے دیں اور انہیں یہ اطلاع کردیں کہ وہ تین ماہواریاں عدت گزرنے کے بعد تجدیدِ نکاح کرلیں۔ اس کے بعدآپ پر اس سلسلے میں ان شاءاللہ شرعاً کوئی ذمہ داری نہ رہے گی۔

حوالہ جات

2/ربیع الثانی1442ھ 

n

مجیب

سیف اللہ تونسوی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔