021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی والوں کا لڑکے والوں کو دئیے ہوئے زیورات واپس مانگنا
70734ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

شادی کے وقت لڑکی والوں نے لڑکے کی والدہ، بہن اور چچی کے لیے زیورات کے سیٹ اور دو بچیوں کے لیے بالیاں بنواکر دی تھیں، پانچ سال کے بعد اب وہ اس کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو کیا ان کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ یہ زیور لڑکی کی والدہ نے شادی کے دن سٹیج پر لڑکے کی والدہ،

بہن، چچی اور بچیوں کو دیا تھا، لڑکے کو انہوں نے آٹھ گرام کی انگوٹھی دی تھی، یہ سارا زیور 3 تولہ تک تھا، یہ ہمارے پاس موجود ہے۔ جبکہ ہم نے لڑکی کو مہر کے علاوہ 5 تولے کا ایک بڑا سیٹ اور 5 تولے کی چوڑیاں دی تھیں جو وہ اپنے ساتھ لے گئی ہے، ہم بھی وہ واپس نہیں مانگ رہے ہیں۔

o

لڑکی والوں نے لڑکے کی والدہ، بہن، چچی اور بچیوں کو پانچ سال پہلے جو زیورات دئیے تھے، وہ ہبہ یعنی گفٹ تھا۔ موہوب لہ (جسے گفٹ دیا جائے) کے قبضہ کے بعد اس سے ہبہ واپس لینے کا حکم یہ ہے کہ اگر ہبہ واپس لینے سے مانع (آٹھ امور میں سے) کوئی امر نہ پایا جائے تو واہب دو صورتوں میں اپنا ہبہ واپس لے سکتا ہے، ایک یہ کہ موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے، دوسرا یہ کہ عدالت میں مقدمہ کے بعد قاضی اس کی واپسی کا فیصلہ کرے۔ ان صورتوں میں اگرچہ واہب کو قضاءً ہبہ واپس لینے کا حق ملتا ہے، لیکن دیانۃً ایسا کرنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو گناہ گار ہوگا، اس لیے اس سے بچنا لازم ہے۔

اس تمہید کے بعد سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ لڑکی والوں کے لیے اب ان زیورات کی واپسی شرعا جائز نہیں، اگر وہ مطالبہ کرتے ہیں تو آپ کے ذمے وہ زیورات انہیں واپس دینا لازم نہیں۔ لیکن اگر وہ عدالت سے رجوع کریں اور عدالت ظاہری دلائل کی روشنی فیصلہ کرتے ہوئے زیورات کی واپسی کا حکم دے تو انہیں قضاء واپس لینے کا حق ہوگا۔

حوالہ جات

المجلة (ص: 166):

مادة 864:- للواهب أن يرجع عن الهبة والهدية  بعد القبض  برضى  الموهوب له،  وإن لم يرض الموهوب له راجع الواهب الحاكم، وللحاكم فسخ الهبة إن لم يكن ثمة مانع من موانع الرجوع

التي ستذكر في المواد الآتية.

مادة 868:- إذا أعطي عن الهبة عوض وقبضه الواهب  فهو مانع للرجوع، فلو أعطي للواهب شيئا على أن يكون عوضا لهبته وقبضه فليس له الرجوع إن كان من جانب الموهوب له  أو من الغير.

شرح المجلة للعلامة خالد الأتاسی(3/383):
المادة 864و ثبوت حق الرجوع للواهب قضاء لا ینافی أن ذلك مکروه تحریما؛ لما رواه أصحاب
السنن الأربعة مرفوعا: لا یحل لرجل أن یعطی عطیة أو یهب هبة فیرجع فیها إلا الوالد فیما

یعطی الولد، و مثل الذی یعطی العطیة ثم یرجع فیها کمثل الکلب یرجع فی قیئه.  و بما ذکرنا یحصل الجمع بین هذا الحدیث و بین ما استدل به أیمتنا لصحة الرجوع، و هو ما رواه الحاکم و صححه مرفوعا من وهب هبة فهو أحق بها ما لم یثب فیها، أی لم یعوض، فبالأول ثبتت کراهة التحریم، و بالثانی ثبتت صحة الرجوع (أفاده فی البحر مع زیادة).

 المادة 868:- و اعلم أن العوض نوعان: مشروط بالعقد، و متأخر عنه. و کل منهما مانع من الرجوع، أما العوض المشروط فی العقد فقد تقدم الکلام علیه مستوفی فی شرح المادة (855) فراجعه؛ فإنه مهم.

و أما العوض المتأخر عن العقد، فالکلام فیه فی موضعین: أحدهما فی بیان شرط جواز هذا التعویض و صیرورة الثانی عوضا عن الأول، و الثانی فی بیان ماهیة هذا التعویض. أما الأول فله شرائط ثلاثة: الأول مقابلة العوض بالهبة، و هو أن یکون التعویض بلفظ یدل علی المقابلة، نحو أن یقول: هذا عوض عن هبتك أو بدل عنها أو مکانها أو نحلتك هذا عنها أو تصدقت بهذا بدلا عنها أو کافأتك أو جازیتك أو أثبتك أو ما یجری هذا المجری، حتی لو وهب لإنسان شیئا و قبضه الموهوب له، ثم إن الموهوب له أیضا وهب شیئا للواهب و لم یقل عوضا بل کان هبة مبتدأة، لکل واحد منهما حق الرجوع.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

13/ربیع الثانی/1442ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔