021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بدعتی شخص کی اقتداء کا حکم
70731نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

سائل کے علاقے میں محلہ کی مسجد کے امام صاحب نے جمعہ کے بیان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کی بات کی۔ کیا ایسے امام صاحب کی اقتداء میں نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ جبکہ علاقے میں اکثریت ایسے ہی عقائد کے حامل لوگوں کی ہے، قریب کی اکثر مساجد میں ایسے ہی ائمہ مقرر ہیں۔ اگر صحیح العقیدہ امام کو تلاش کریں تو اپنے محلہ سے نکل کر دور کے محلہ میں جانا پڑتا ہے جس پر اہلِ محلہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ یہ جماعت سے الگ ہورہے ہیں، نیز اپنے خاندان کے لوگوں سے ذہنی طور پر دوری کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں تبلیغی جماعتوں کی مختلف مساجد میں تشکیل ہوتی ہے جن کے ائمہ کے عقائد کے بارے میں پہلے سے کسی کو علم نہیں ہوتا۔ اس پر جماعت کے ساتھی کہتے ہیں کہ امام جیسا بھی ہو، مسجد کوئی بھی ہو وہاں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔  اسی طرح ایک حدیث میں ہر نیک اور فاسق امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ اس کی روشنی میں اس عمومی خیال کی کیا وضاحت ہوگی کہ مذکورہ بالا امام کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کرنی چاہیے؟

o

واضح رہے کہ امامت کے باب میں ایک  صحتِ اقتداء ہے، یعنی کسی کی اقتداء میں نماز کا ادا ہوجانا، دوسرا بدعتی شخص (جس کے عقائد شرکیہ نہ ہوں) کو اپنے اختیار سے امام بنانا۔ ان دونوں باتوں کو الگ الگ سمجھنے سے سوال میں مذکور اشکال ان شاء اللہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔

(1)۔۔۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو مردوں کی امامت کے لیے امام کے اندر چھ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ (1) مسلمان ہونا (2) بالغ ہونا (3) عاقل ہونا (4) مرد ہونا (5) قراءت پر قادر ہونا (6) امامت سے مانع اعذار سے خالی ہونا۔ جس شخص میں یہ چھ شرائط موجود ہوں، اس کے پیچھے نماز ادا ہوجاتی ہے، سوال میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا یہی مطلب ہے کہ نماز ہوجاتی ہے۔

(2)۔۔۔ دوسرے مسئلے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ بدعتی شخص کے پیچھے اگرچہ نماز ہوجاتی ہے، لیکن ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے؛ اس لئے حتی الامکان اپنی نماز کسی صحیح العقیدہ  متبع ِسنت امام کی اقتداء میں ادا کرنی چاہیے ، لیکن اگر محلے کی مسجد یا قریبی مسجد میں کسی ایسے امام کی اقتداء میں نماز میسر نہ ہو اور دور جانے کی صورت میں مذکورہ خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ بھی ہو تو ایسی صورت میں اکیلے نماز پڑھنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بہتر ہے، مسجد کی جماعت کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے، اس سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔

ان اصولی نکات کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی امام کے عقائد شرکیہ ہوں تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست نہیں۔ اور اگر امام صاحب بدعات میں مبتلا ہو، لیکن اس کے عقائد شرکیہ نہ ہوں تو اصول نمبر 2 کے تحت ذکر کردہ تفصیل کے ساتھ اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي، ط:دار الکتب العلمیة (4/ 29):

أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه الأصبهانى أخبرنا على بن عمر الحافظ حدثنا أبو روق : أحمد بن محمد بن بكر بالبصرة حدثنا بحر بن نصر حدثنا ابن وهب قال حدثنى معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن مكحول عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال :

« صلوا خلف كل بر وفاجر ، وصلوا على كل بر وفاجر ، وجاهدوا مع كل بر وفاجر ».

قال على : مكحول لم يسمع من أبى هريرة، ومن دونه ثقات. قال الشيخ : قد روى فى الصلاة على كل بر وفاجر والصلاة على من قال لا إله إلا الله أحاديث كلها ضعيفة غاية الضعف، وأصح ما روى فى هذا الباب حديث مكحول عن أبى هريرة، وقد أخرجه أبو داود فى كتاب السنن، إلا أن فيه إرسالا كما ذكره الدارقطنى رحمه الله.

ردالمحتار(1/550):

وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء :- الإسلام، والبلوغ، والعقل، والذكورة، والقراءة، والسلامة من الأعذار، كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة . ا هـ

الدر المختار (1/ 562-559):

( ويكره ) …...( إمامة عبد ) ولو معتقا قهستاني . عن الخلاصة ، ولعله لما قدمناه من تقدم الحر الأصلي ، إذ الكراهة تنزيهية فتنبه ( وأعرابي ) ومثله تركمان وأكراد وعامي ( وفاسق وأعمى )

ونحوه الأعشى نهر ( إلا أن يكون ) أي غير الفاسق ( أعلم القوم ) فهو أولى ( ومبتدع ) أي
صاحب بدعة، وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة، و كل من

كان من قبلتنا ( لا يكفر بها ) …….( وإن ) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة ( كفر بها ) كقوله إن الله تعالى جسم كالأجسام وإنكاره صحبة الصديق ( فلا يصح الاقتداء به أصلا ) فليحفظ…. وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.

رد المحتار (1/ 562-560):

وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه وقد وجب عليهم إهانته شرعا ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا قال ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف وحمل الاستثناء على غير الفاسق والله أعلم.

مطلب البدعة خمسة أقسام:  قوله ( أي صاحب بدعة ) أي محرمة، وإلا فقد تكون واجبة كنصب الأدلة للرد على أهل الفرق الضالة وتعلم النحو المفهم للكتاب والسنة، ومندوبة كإحداث نحو رباط ومدرسة وكل إحسان لم يكن في الصدر الأول، ومكروهة كزخرفة المساجد، ومباحة كالتوسع بلذيذ المآكل والمشارب والثياب كما في شرح الجامع الصغير للمناوي عن تهذيب النووي، وبمثله في الطريقة المحمدية للبركلي.

 قوله ( قوله وهي اعتقاد الخ ) عزا هذا التعريف في هامش الخزائن إلى الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولا يخفى أن الاعتقاد يشمل ما كان معه عمل أو لا؛ فإن من تدين بعمل لا بد أن يعتقده كمسح الشيعة على الرجلين وإنكارهم المسح على الخفين ونحو ذلك، وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما ا هـ   فافهم.

 قوله ( لا بمعاندة ) أما لو كان معاندا للأدلة القطعية التي لا شبهة له فيها أصلا كإنكار الحشر أو حدوث العالم ونحو ذلك  فهو كافر قطعا. قوله ( بل بنوع شبهة ) أي وإن كانت فاسدة كقول منكر الرؤية بأنه تعالى لا يرى لجلاله وعظمته قوله ( وكل من كان من قبلتنا لا يكفر بها) أي بالبدعة المذكورة المبنية على شبهة؛ إذ لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان من أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير .  قوله ( نال فضل الجماعة ) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

13/ربیع الثانی/1442ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔