021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکی رشتہ داروں کی طرف سےبیوی کودیےگئےزیورات کاحکم
70725نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

محترم جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم!میں ایک مسئلےکاحل شریعت کےاصول کےمطابق معلوم کرناچاہتی ہوں۔

ایک لڑکی شوہراورباقی گھروالوں کی غیرموجودگی میں اپنےگھروالوں کوکال کرکےبلاکران کےساتھ چلی گئی اوراپنےساتھ تمام زیورات،تمام نقدروپیہ،اپنےتمام کڑےاورضرورت کاسامان اپنی دوسال کی بچی اوراس کاتمام ضرورت کاسامان وغیرہ لےکرچلی گئی،شوہرکواس نےایک دوکالز کی جووہ آفس میں مصروفیت کی وجہ سےاٹھانہ سکا،پھرایک میسج کردیاکہ میں امی کےگھرجارہی ہوں۔

شوہرنےجب میسج دیکھاتووہ کالزکرتارہا،لیکن اس لڑکی نےکالزاٹینڈنہیں کی اوراپنےوالدین ایک خالہ اورایک ماموں کےساتھ چلی گئی۔

شوہرآفس سےفوراگھرآیااوراپنے گھروالوں سےرابطہ کیاتوان سب کوبھی کچھ معلوم نہیں تھا۔پھروہ اپنےتینوں بھائیوں کےساتھ لڑکی کےوالدین کےگھرگیا،وہاں لڑکی کےخالو،ماموں اورکئی لوگ موجودتھے،ان سےبات کرنےکی کوشش کی توان لوگوں نےکافی غیرمہذب زبان استعمال کی اورلڑکےکےبھائیوں کوگھرمیں گھسنےنہیں دیا۔

آخرکارلڑکےنےاپنی بیوی سےبات کرنےکی کوشش کی تواس کےخالونےمنع کردیاپھراس نےلڑکی سےپوچھاکہ تم میرےساتھ چلوگی میں تمہیں لینےآیاہوں،تواس لڑکی نےاس کےساتھ چلنےسےصاف انکارکردیاپھرلڑکااپنےبھائیوں کےساتھ واپس آگیا۔اس کےبعدپانچ ماہ کاعرصہ ہوگیا،اس دوران لڑکےگھروالوں کی طرف سےبات چیت کی بہت کوشش کی گئی،لیکن اس لڑکی نےگااس گھرمیں آنےسےصاف انکارکردیا۔اورصرف نان نفقہ اورخرچےکامطالبہ ہے۔اس کےلیےانہوں نےکورٹ میں بھی کیس کردیاہے۔

برائےمہربانی یہ بتادیجیےکہ جوزیورات وہ لےکرگئی ہے،اس میں لڑکےکےرشتہ داروں کی طرف سےدیےگئےزیورات بھی شامل ہیں،کیاوہ شرعاان زیورات کورکھنےکی حقدارہے؟جبکہ یہ تحائف کی ایک شکل ہےجودولہااوردلہن دونوں کوشادی کےموقع پردیےجاتےہیں۔

o

مہرکےعلاوہ لڑکےکےرشتہ داروں کی طرف سےدیےگئےزیورات وغیرہ کاحکم یہ ہےکہ یہ عام طورپرتوہدیہ ہوتاہےاوربطورملک کےہی دیاجاتاہےیعنی جس دلہن کودیاجاتاہے،وہی اس کی مالک سمجھی جاتی ہے، اس لئےاگربعدمیں کسی وجہ سےبیوی  شوہرکےگھرسےچلی گئی یابیوی نےطلاق لےلی تواس بناءپر شوہرکےرشتہ دارجنہوں نےزیورات وغیرہ گفٹ کیےتھے،ان کےلئےدیانتایہ جائزنہیں کہ وہ اپناہدیہ اورگفٹ واپس لےلیں،کیونکہ حدیث میں اس کوسخت ناپسندکیاگیاہے۔

   یہ الگ بات ہے کہ اگر ہدیہ کےبدلےکوئی عوض نہ لیاگیاہواورہدیہ کرنےوالادیانتہ ناجائزہونےکےباوجودہدیہ کی ہوئی چیزواپس لےلےتووہ دوبارہ اس کی ملکیت میں آجاتی ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" 24 / ص 5:
صح الرجوع فيها بعد القبض ) أما قبله فلم تتم الهبة ( مع انتفاع مانعه ) الآتي ( وإن كره ) الرجوع ( تحريما ) وقيل : تنزيها نهاية ( ولو مع إسقاط حقه من الرجوع ) فلا يسقط بإسقاطه خانية ۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 167:
قال في الفتح: والذي يجب اعتباره في ديارنا أن جميع ما ذكر من الحنطة واللوز والدقيق والسكر والشاة الحية وباقيها يكون القول فيها قول المرأة، لان المتعارف في ذلك كله أن يرسله هدية، والظاهر معها لا معه، ولا يكون القول قوله إلا في نحو الثياب والجارية ۔
قال في البحر: وهذا البحث موافق لما في الجامع الصغير، فإنه قال: إلا في الطعام الذي يؤكل فإنه أعم من المهيأ للاكل وغيره ۔
قال في النهر: وأقول: وينبغي أن لا يقبل قوله أيضا في الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف،
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليه قبل الزفاف في الاعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس، ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابا ونحوها صبيحة العرس أيضا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

13/ربیع الثانی 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔