021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مضاربت میں دکان کاکرایہ ودیگراخراجات نفع تقسیم کرنےسےپہلےنکالےجائیں گے؟ 
70774مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

مضاربت میں دوکان کا کرایہ، مزدور، مضارب،مہمان کے کھانے پینے، اے سی چلانا،انٹرنیٹ کو دفتری کام کیلئے استعمال کرنانیز بجلی بل ان چیزوں کا خرچہ منافع تقسیم کرنے سے پہلے نکالاجائےیانہیں؟

o

مضاربت میں تمام بلاواسطہ اخراجات (Direct Expenses) مثلاً: کاروبارکےلیےدکان کی خریداری اوراس سےمتعلقہ اخراجات وغیرہ مال مضاربہ سے ادا کیے جاتےہیں، جب کہ بالواسطہ  اخراجات(indirect expenses) مثلاً: دفتر کے بجلی، فون وغیرہ کے اخراجات صرف مضارب پرہوتےہیں،مضاربت سےاس قسم کےاخراجات نہیں لیےجاسکتے۔

صورت مسئولہ میں دکان کاکرایہ،دکان میں کام کےلیےمزدورکےاخراجات تومال مضاربت سےلیےجائیں گے،اوریہ اخراجات نفع کی تقسیم سےپہلےنکالےجائیں گے۔

اس کےعلاوہ تمام اخراجات خودمضارب پرہوں گے،نفع سےیہ اخراجات وصول نہیں کیےجاسکتے۔

نوٹ:مذکورہ بالاجوابات سائل کی  بتائی ہوئی تفصیل اورتنقیح سےجوصورت حال واضح ہوئی،اس کےمطابق دئیےگئےہیں۔

واضح رہےکہ آج کل مضاربت کےنام سےکاروبارکےمختلف طریقےچل رہےہیں،جن میں ظاہریہ کیاجاتاہےکہ باقاعدہ عقد ہورہاہے،اورقسطوں پرمختلف اشیاء بیچی جاتی ہیں،لیکن حقیقت میں کوئی کاروباراورعقدنہیں ہوتا،بعض صورتوں میں باقاعدہ کسٹمرزکووہ چیزیں مثلاموٹرسائیکل حوالہ ہی نہیں کی جاتی،بس دکھادی جاتی ہیں،پھراس میں لوگوں کوغربت،لالچ،جلدبازی کی وجہ سےاپنےجال میں پھنساتےہیں،بعض دفعہ تھوڑابہت نفع دےکردوبارہ انویسٹ کرنےکاکہاجاتاہے۔بعد میں آنےوالےلوگوں میں اگرکوئی نفع مانگناچاہےتوپہلےسےجمع شدہ رقم سےکچھ منافع تقسیم کردیتےہیں۔نفع باقاعدہ رقم کی صورت میں متعین دیاجاتاہے،اورعام کاروبارسے بہت زیادہ نفع کاوعدہ کیاجاتاہے۔اس طرح کےکاروبارمیں شرعا،قانونی،اخلاقی اورانتظامی خرابیاں پائی جاتی ہیں،اس لیےان سےخودبھی بچناچاہیےاوردوسرےلوگوں کوبھی بچاناچاہیے۔

اس طرح کےکاروبارمیں شریک ہونےسےپہلےباقاعدہ اچھی طرح معلومات کرناضروری ہے،مستفتی کی وضاحت کےمطابق استفتاء میں ذکرکردہ طریقہ کارمیں باقاعدہ عقدکیاجاتاہے،اس کامقصد دھوکہ فراڈنہیں،بلکہ حقیقتالوگوں کونفع دیابھی جاتاہے،اورگھریلواشیاء موبائل موٹرسائیکل وغیرہ لوگوں کوباقاعدہ حوالےبھی کی جاتی ہیں۔

درجہ بالاکاروبارکےبارےمیں بھی سابقہ ذکرکردہ خرابیاں اگرمعتبرذرائع سےثابت ہوجاتی ہیں،توپھریہ بھی دھوکہ اورفراڈہونےکی وجہ سےناجائزہوگا،لوگوں کواس قسم کےکاروبارسےآگاہ کرنا بھی ضروری ہوگا،تاکہ لوگ اس میں اپناسرمایہ ضائع نہ  کریں۔

حوالہ جات

"رد المحتار"23 / 387:
( وإذا سافر ) ولو يوما ( فطعامه وشرابه وكسوته وركوبه ) بفتح الراء ما يركب ولو بكراء ( وكل ما يحتاجه عادة ) أي في عادة التجار بالمعروف ( في مالها ) لو صحيحة لا فاسدة ؛ لأنه أجيز ، فلا نفقة له كمستبضع ووكيل وشريك ۔
"رد المحتار" 23 / 387:
الشرح( قوله : ولو يوما ) ؛ لأن العلة في وجوب النفقة حبس نفسه لأجلها ، فعلم أنه ليس المراد بالسفر الشرعي بل المراد أن لا يمكنه المبيت في منزله ، فإن أمكن أنه يعود إليه في ليلة فهو كالمصر لا نفقة له بحر ( قوله ولو بكراء ) بفتح الراء ومدها وكسر الهمزة بعدها ( قوله : لأنه أجير ) أي في الفاسدة ( قوله خلاف ) فإنه صرح في النهاية بوجوبها في مال الشركة منح ، وجعله في شرح المجمع رواية عن محمد وفي الحامدية في كتاب الشركة عن الرملي على المنح أقول : ذكر في التتارخانية عن الخانية قال محمد هذا استحسانا ۔أي وجوب نفقته في مال الشركة وحيث علمت أنه الاستحسان فالعمل عليه لما علمت أن العمل على الاستحسان إلا في مسائل ليست هذه منها خير الدين على المنح ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

21/ربیع الثانی  1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔