021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایل بی ایل کمپنی کے بنڈل خریدنا
70829اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

خلاصہ و ترتیب سوال: دوسرا کام یہ ہے کہ ان کے 25000 سے لے کر 500000 تک کے بنڈل ہیں۔ ہر بنڈل کے اپنے الگ الگ فائدے ہیں۔ مثلاً 25000 کا بنڈل ہم خریدتے ہیں تو خریدار کو مندرجہ ذیل چیزیں ملتی ہیں:

1.     ماسٹر کارڈ جس کے ذریعے ہم کسی بھی اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکال سکتے ہیں۔

2.     90 دن کے لیے ای لرننگ کے کورسز ہوتے ہیں جو کہ 800 سے زیادہ کورسز ہوتے ہیں۔ ہر کورس کا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔ بنڈل لینے والے کی مرضی ہے ان 90 دن کے اندر وہ جتنے چاہےکورسز کر لے۔ یہ دو چیزیں 10000 کی ملتی ہیں۔

3.     15000 روپے کے LC4 کرپٹو ٹوکن ملتے ہیں۔ یہ اسی کمپنی کی کرپٹو کرنسی ہےجس کی قیمت ابھی 150 روپے ہے۔ اس کی قیمت ہر ہفتے بڑھتی رہتی ہے۔  لوگ اسے لے کر رکھ رہے ہیں اور جب اس کی قیمت زیادہ ہوگی تو اسے بیچ دیں گے۔

جب کوئی شخص 25000 والا بنڈل خریدے تو اسے لگانے والے کو 1860 روپے ملتے ہیں اور اس سے اوپر بھی ہر شخص کو 1860 روپے ملتے ہیں۔  اگر زیادہ والا بنڈل خریدے تو کمیشن بھی زیادہ ملتا ہے۔

اب سوالات یہ ہیں:

1.     ایل سی 4 کرپٹو کرنسی لینا، اسے رکھنا اور بیچنا جائز ہے اور اس کی آمدن کا کیا حکم ہے؟

2.     یہ کورسز اور ماسٹر کارڈ لینا کیسا ہے؟

3.     کمیشن لینے کا کیا حکم ہے؟

اضافہ: آن لائن ایکسچینج کے مطابق LC4 کی موجودہ قیمت 0.12 ڈالر یعنی تقریباً 19.29 پاکستانی روپے ہے اور اس کی قیمت کبھی بھی 34 روپے سے اوپر نہیں گئی۔

o

سوال میں مذکور تینوں شقوں کے جوابات ترتیب وار یہ ہیں:

1.     کرپٹو کرنسی کے حوالے سے دار الافتاء میں تحقیق جاری ہے اور اس بارے میں ہماری رائے  فی الحال توقف کی ہے۔  ہمارے دار الافتاء سے اس بارے میں ناجائز یا جائز ہونے کا فتوی جاری نہیں کیا جاتا۔ البتہ اس عنوان سے ہونے والی جعل سازی اور مالی نقصانات کے پیش نظر بہتر یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔

2.     کورسز اور ماسٹر کارڈ لینا کمپنی اور بنڈل لینے والے شخص کے درمیان اجارے کا معاملہ ہے جس میں کمپنی لوگوں سے رقم لے کر انہیں تعلیم اور رقوم کی منتقلی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر جائز ہے لیکن چونکہ یہاں  اس کے ساتھ کرپٹو کرنسی کی بیع کو ایک ہی سودے میں جمع کیا جا رہا ہے لہذا یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

3.     کمیشن دینے کے اس طریقے کو ملٹی لیول مارکیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ چونکہ کمپنی کا افراد کے ساتھ بنیادی معاملہ ہی درست نہیں ہے لہذا اس میں کسی کو شامل کروانا اور اس کی اجرت وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

(وإن شرط تركها على الشجر فسد البيع) لأنه إعارة أو إجارة في البيع، فيكون صفقتين في صفقة وأنه منهي عنه۔۔۔.
(الاختيار لتعليل المختار، 2/7، ط: مطبعة الحلبي)
 
ومن جملة ذلك صفقتان في صفقة نحو أن يقول: أبيعك هذا على أن تبيعني هذا.
(المحيط البرهاني، 6/388، ط: دار الكتب العلمية)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

تاریخ: 05/ جمادی الاولی 1442ھ

n

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔