021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدکاوالدہ پرتہمت لگانےکے باوجود،اولاد کاوالد کےساتھ برتاؤکاحکم
71055معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

میرے والدین کی شادی کو اکتیس سال ہونے والے ہیں۔جب میں چار سال کاتھا تو مجھے یاد ہے کہ میرے والد کی اس وقت سے میری والدہ کو مارنے کی عادت تھی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ان پر آٹھ نو مردوں کے ساتھ زنا کرنے کی تہمت بھی لگاچکے ہیں۔رات کو ایک کمرے میں بند کرکے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مارنےکی عادت شادی کے بعد فوراً شروع ہوگئی تھی۔اب چونکہ ہم تین بھائی بڑے ہو چکے ہیں،تو انہوں نے مارنا تو چھوڑ دیا ہے،مگر نئی نئی تہمتیں لگانے کا کام اب بھی جاری ہے۔میرے والد اور والدہ دونوں صوم و صلوۃ کے پابند ہیں۔والدہ پر ایسا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔اچھے گھرانے کی خاتون ہیں،تھوڑے پر صبر کرکے ہم سب بچوں کو دین و دنیا کی تعلیم دی۔

آج ہی والدہ پر اپنے چچازاد رضاعی بھائیوں کے ساتھ زنا کےلیے جانے کی  تہمت لگائی ہے،حالانکہ امی اپنی ایک سگی بہن اور دو چچازاد بہنوں کے ساتھ کھیت میں کام کرنے گئی تھیں اور رضاعی بھائی وہاں گئے ہی نہیں تھے۔میں نے قرآن وحدیث کے حوالے سے انہیں بہت سمجھایا،مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر پورے زور سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ رضاعی رشتہ صرف ناجائز تعلقات کا ایک بہانہ ہے۔

صورت حال بہت خراب ہے۔  والد صاحب بات بالکل نہیں مان رہے۔قرآن و حدیث کے حوالے سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔جبکہ میں چوبیس سال سے اس صورتِ حال کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں والد کے ساتھ کیا کیا جائے؟ کیا ان کے ساتھ بدتمیزی کی جا سکتی ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے والد کا کوئی مرتبہ رکھا ہے تو اس کے ساتھ کچھ شرائط بھی تو ہوں گی؟رہنمائی فرمائیں۔

o

 صورتِ مسئولہ انتہائی افسوس ناک ہے۔آپ کے والد کا اپنی اہلیہ پر بےجا تہمتیں لگانا شرعاً درست نہیں۔اگر میاں بیوی ایک دوسرے پر زنا کا الزام لگائیں اور مدعا علیہ انکار کررہا ہواور ان کے پاس اپنے علاوہ کوئی گواہ بھی نہ ہو تو شریعت نے اس مسئلہ کے حل کےلیے لعان کا طریقہ رکھا ہے۔لیکن محض یوں الزامات لگانا حرام اورگناہ کبیرہ ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے،چنانچہ سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :إن الذین یرمون  الخ .ترجمہ:"یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں،ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑ چکی ہےاور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔" اور ایک حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:"جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی(یعنی کوئی الزام یا تہمت لگائی)جو اس میں حقیقت میں نہیں،تو اللہ اسے(الزام یا تہمت لگانے والے کو)دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا،یہاں تک کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز آجائے( یعنی توبہ کر لے)"

تاہم آپ اپنے والد کی خدمت کرتے رہیں،ان کو محبت اور حکمت سے سمجھاتے رہیں،والدین کے درمیان بااعتماد فضاء بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔ امید  ہے کہ ان شاءاللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔والدہ کو بھی چاہیے کہ خاوندکو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں۔ان کی پوری فرمانبرداری کرتی رہیں۔اسی میں ان کی خیر ہے۔قرآن کریم کی سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ نے نیک عورتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: فالصٰلحٰت قٰنتٰت  الخ. ترجمہ:"نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں،مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے(اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔"اسی طرح شوہر کی خدمت اور فرمانبرداری کی اہمیت بیان کرتےہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےارشادفرمایا:اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی(غیراللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں پر شوہروں کے حقوق رکھے ہیں۔"

باقی والدین کی بے ادبی کرنا کسی حال میں جائز نہیں،کیونکہ شریعت نےہرحال میں والدین کی اطاعت کو لازمی قراردیا،جب تک کہ وہ شریعت کے خلاف حکم نہ دیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالیٰ:إن الذین یرمون  المحصنٰت الغٰفلٰت المؤمنٰت لعنوا فی الدنیا والاٰخرۃ ولہم عذاب عظیم. (سورۃ النور:23)
روی الإمام أبو داؤد رحمہ اللہ :عن يحيى بن راشد قال : جلسنا لعبد الله بن عمر ، فخرج إلينا فجلس، فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله، ومن خاصم في باطل، وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه. ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال ."(سنن أبی داؤد: 3597)
قال اللہ تعالیٰ:فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ.(سورۃ النساء:34)
روی الإمام أبو داؤد رحمہ اللہ :قال رسول اللہ صلی اللہ و سلم:"لو کنت آمر أحدا أن یسجد
 
لأحد، لأمرت النساء أن یسجدن لأزواجھن ؛لما جعل اللہ لھم علیھن من الحق."
(سنن أبی داؤد،کتاب النکاح: 2140)
روی الإمام الترمذی رحمہ اللہ:  عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ،عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال:"رضی الرب فی رضی الوالد ،وسخط الرب فی سخط الوالد."(سنن الترمذی:1899)

عرفان حنیف

دارالافتاء،جامعۃالرشید،کراچی

  28جمادی الاولی /1442ھ

n

مجیب

عرفان حنیف بن محمد حنیف

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔