021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جو مال ہبہ کر دیا جائے ، اس کی زکوۃ ادا کرنے کا حکم
71804زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میرے پاس کچھ زیور ہے ، جس کی زکوۃ باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں ۔ اس زیور میں سے کچھ میں اپنی بھتیجی کو شادی کے لیے دے دوں تو کیا پھر بھی اس کی زکوۃ میرے ذمہ ہو گی ؟

o

واضح رہے زکوۃ اس مال پر دینا لازم ہوتا ہے جس کا انسان مالک ہو،لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ شادی کے موقع پرکچھ زیور بھتیجی کو ہبہ ( گفٹ ) کر ان کو مالک بنادیتے ہیں تو اس زیور کی زکوۃ ادا کرنا اب آپ پر لازم نہیں ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 95)
" الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة.

عبدالدیان اعوان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

2 رجب 1442

n

مجیب

عبدالدیان اعوان بن عبد الرزاق

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔