021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سجدہ سہو کرنے کا طریقہ
73021نماز کا بیانسجدہ سہو کابیان

سوال

نماز میں سجدہ سہو کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ سجدوں سے پہلے سلام پھیرا جائے یا سجدوں کے بعد؟

o

سجدہ سہو ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد پڑھنے کے بعد پہلے دائیں جانب سلام پھیرا جائے، پھر دو سجدے کیے جائیں، اُس کے بعد دوبارہ تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف آخر میں سلام پھیریں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ تعالی: (يجب بعد سلام واحد عن يمينه فقط)؛ لأنه المعهود، وبه يحصل التحليل، وهو الأصح. بحر عن المجتبى. وعليه لو أتى بتسليمتين سقط عنه السجود، ولو سجد قبل السلام، جاز وكره تنزيها. (الدر المختار مع رد المحتار: 2/78)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: قوله: (جاز) هو ظاهر الرواية، وفي المحيط: وروي عن أصحابنا أنه لا يجزيه، ويعيده، بحر. (رد المحتار: 2/78)
قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: ولو سجد قبل السلام أجزأه عندنا، هكذا رواية الأصول... والصواب أن يسلم تسليمة واحدة، وعليه الجمهور، وإليه أشار في الأصل، كذا في الكافي. ويسلم عن يمينه، كذا في الزاهدي، وكيفيته أن يكبر بعد سلامه الأول ويخر ساجدا ويسبح في سجوده، ثم يفعل ثانيا كذلك، ثم يتشهد ثانيا، ثم يسلم، كذا في المحيط. ويأتي بالصلاة على النبي علیہ الصلوۃ والسلام والدعاء في قعدة السهو، هو الصحيح.(الفتاوی الھندیۃ: 1/125)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

23/ شعبان/ 1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔