021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آفس ساتھ جانے کی صورت میں سواری کے اخراجات کا حکم
73282جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

زید کی بائک ہے ۔ زید و عمر ایک ہی جگہ ( آفس یا فیکٹری ) میں کام کرتے ہیں ۔اگر زید و عمر کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ عمر ، زید کو ماہانہ تین ہزار دے گا اور یہ کہے کہ دونوں ساتھ آنا جانا کریں گے ۔

  1. کیا یہ معاہدہ جائز ہے ؟
  2. اگر زید کبھی چھٹی کرے یا بائک پر نہ جائے تو کیا حکم ہے ؟یعنی زید ایک دن کے پیسے واپس کر دے یا ایسی صورت میں لازم ہے کہ زید ، عمر کے لیے کوئی بندوبست کرے ؟
  3. پٹرول کے علاوہ بائک کے دوسرے خرچے مثلا : آئئلنگ ، ٹیونگ ، پنکچر وغیرہ کون کرے گا جبکہ معاہدہ میں یہ طے نہیں ہوا کہ 3000 صرف پٹرول کے ہیں یا جملہ اخراجات کے ۔ بس مطلقا 3000 کی بات ہوئی ہے ۔ نیز ایک پک/ڈراپ میں سے کوئی ایک عمل نہ کرے تو 50 روپے ایک دن کی آدھی قیمت دینی ہو گی عمر کو ؟
  4. کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زید کو پٹرول مفت میں مل گیا تو ایسے میں زید پیسے لینے کا حقدار ہو گا یا نہیں ؟

زید کے لیے کسی تیسرے بندے کو سوار کرنا کیسا ہے ؟جبکہ معاہدہ میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔

o

یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ سوال میں مذکور صورت میں عموما آپس میں کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہوتا ہے ۔ یہ آپس میں احسان اور باہمی مفاہمت کی ایک صورت ہوتی ہے ۔نزاع اور تعلقات کے خراب ہونے سے بچنے کے لیے پہلے سوال میں مذکور تمام امور آپس میں طے لینے چاہییں۔مندرجہ بالا امور کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں :

اگر ایک صاحب کی بائک ہو اور دوسرے کے پاس نہ ہو جبکہ دونوں ایک ہی جگہ کام کرتے ہوں اور وہ آپس میں یہ طے کر لیں کہ روزانہ ساتھ آنا جانا کریں گے ۔ پٹرول کی مد میں ہونے والا خرچہ اوربائک پر ہونے والے دیگر اخراجات وہ آپس میں تقسیم کر لیں گے تو ایسا کرنا درست ہے ۔

کسی دن زید چھٹی کر لے یا بائک پر آفس نہ جائے تو زید کے ذمہ یہ لازم نہیں کہ عمرکےلیے متبادل کا انتظام کرے۔عمر ماہانہ پٹرول کی مد میں جو رقم ادا کر رہا ہے ،جتنے دن ناغہ ہو اس حساب سے اس میں کمی کر لے ۔

پہلے یہ بات طے کرلینا ضروری ہے کہ دوران مہینہ آنے جانے پر جو اخراجات ہوں گے ، وہ کس کے ذمہ ہوں گے۔اگر پہلے اخراجات کی مد میں ایک جانب سے ایک مخصوص رقم ادا کرنے کی بات طے ہوئی ہے تو ساتھ میں یہ طے کرنا بھی ضروری ہے کہ جو رقم ادا کی جارہی ہے وہ صرف پٹرول کی مد میں ہے یا دیگر اخراجات بھی اس میں شامل ہیں۔اگرایسی کوئی بات طے نہیں کی گئی ہے تو باہمی مفاہمت سےدیگر اخراجات بھی آپس میں تقسیم کر لینے چاہیییں۔ نیز دوران مہینہ اگر پٹرول کی مد میں زیادہ خرچہ ہوتا ہے تو اس حساب سے زید عمر سے زائد رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔

دوران مہینہ اگرکبھی زید کو پٹرول فری مل جاتا ہے تو اس صورت میں وہ عمر سے پٹرول کی مد میں پیسے نہیں لے سکتا ، البتہ اس دوران بائک کا کوئی دوسرا خرچہ ہو جائے تو اس مد میں پیسے لے سکتا ہے ۔

بائک کا مالک زید ہے ۔ وہ چاہے تو عمر کی سہولت کا خیال کرتےہوئے تیسرے بندے کو سوار کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

عبدالدیان اعوان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 شوال 1442

n

مجیب

عبدالدیان اعوان بن عبد الرزاق

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔