021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھینس کا بچہ پالنے کے لیے دینا
71376اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

میں نے ایک بھینس کا بچہ(کٹی) جس کی قیمت تیس ہزار روپے ہے، خرید کر کسی کو پالنے کے لیے دیا ہے۔ ہمارے درمیان لین دین کا معاملہ کچھ اس طرح سے طے پایا ہے کہ ایک یا دو سال بعد اس بھینس کی جو قیمت فروخت ہوگی اس میں سے تیس ہزار مالک کا اور بقیہ رقم جو بھی بچے گی وہ آدھی آدھی تقسیم ہوگی۔کیا یہ جائز ہے؟یا اگر اس کی کوئی اور صورت ہے تو وضاحت فرمادیں۔

o

مذکورہ صورت میں یہ معاملہ اجارے کا ہے اور اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہے،چنانچہ اصل رقم اور منافع مالک کا ہی ہوگا جبکہ فریق ثانی اجرت مثل(یعنی اس کام کی عام معروف ومناسب اجرت) کا حقدار ہوگا۔

البتہ اگر معاملہ کرتے ہوئے جانور خرید کر دینے کے بجائے آپ صرف رقم فراہم کردیں اور پھرطے شدہ شرح کے مطابق منافع میں شریک ہوجائیں تو یہ معاملہ مضاربت کا ہوگا اور جائز ہو گا۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 503)
يشترط لصحة الإجارة أي عدم فسادها أولا أن تكون الأجرة معلومة تماما قدرا ونوعا.أي لا يكون شيء منها مجهولا كلا أو بعضا لأن جهل الأجرة يفضي إلى المنازعة ولقوله - صلى الله عليه وسلم - «من استأجر أجيرا فليعطه أجره» (الهندية).
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 425)
ومعناها الشرعي: نوع شركة في الربح على أن يكون رأس المال من طرف أي من جانب رب المال ولو كان متعددا، السعي والعمل من الطرف الآخر ولو كان متعددا.
المبسوط (25/ 287)
( قال - رحمه الله - ) : " وإذا دفع إلى رجل مالا مضاربة ولم يقل اعمل فيه برأيك فله أن يشتري به ما بدا له من أصناف التجارة ويبيع ؛ لأنه نائب عن صاحب المال في التجارة " فإن قصده بالدفع إليه تحصيل الربح وذلك بطريق التجارة فكذلك ما هو من صنع التجار يملكه المضارب بمطلق العقد……فالتجارة نوعان حاضرة في بلدة ، وغائبة في بلدة أخرى ، ولا يتمكن من مباشرتها بنفسه ولو لم يجزئه الإبضاع والتوكيل والإيداع لفاته أحد نوعي التجارة لاشتغاله بالنوع الآخر وله أن يستأجرمعه الأجراء يشترون ويبيعون ويستأجر البيوت والدواب لأمتعته التي يشتريها ؛ لأن ذلك من صنع التجار فالمضارب لا يستغني عن ذلك في تحصيل الربح ، وللمنافع حكم المال عند العقد ، والإجارة والاستئجار تجارة من حيث إنه مبادلة مال بمال وله أن يسافر به .
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 428)
(المضاربة المطلقة هي التي لم تتقيد بزمان أو مكان أو بنوع تجارة أو بتعيين بائع أو مشتر، وإذا تقيدت بأحد هذه فتكون مضاربة مقيدة. مثلا إذا قال: اعمل في الوقت الفلاني أو المكان الفلاني أو بع واشتر مالا من الجنس الفلاني أو عامل فلانا وفلانا أو أهالي البلدة الفلانية. تكون المضاربة مقيدة).

معاذ احمد بن جاوید کاظم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳

n

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔