021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاقِ ثلاثہ کے بعد بغیر حلالہ کے نکاح کا حکم
73197طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

احسن آباد میں ایک لڑکے نے ایک لڑکی کو بھگا کر  کوٹ میں نکاح کر لیابعد ازاں ایک پنچایت کے ذریعے لڑکی واپس کردی اور اس لڑکی  کو تحریرا  اسٹامپ پیپر پر لکھ کر  تین دفع طلاق دی  اور زبان سے بھی تین دفع طلاق دے دی۔اور ایک پنچایتی فیصلے کا اسٹامپ ییپر بھی لکھ کر دے دیا تقریبا پانچ ماہ بعد وہ لڑکا دوبارہ اسی لڑکی کو  بھگا کر لے گیا اور بغیر حلالہ کے نکاح کر لیا ۔ شرعی حساب سے اس کا کیا حکم ہے؟

o

اگر لڑکی بالغ تھی اور کورٹ مین اپنی مرضی سے اس لڑکے سے نکاح کیا تھا تویہ نکاح اگرچہ خلاف اخلاق اور مروت تھا، لیکن وہ نکاح ہو چکا تھا، اس کے بعد جب لڑکے نے اس کو تین طلاقیں دے دیں تولڑکی کو تین طلاقیں ہو گئی ہیں۔ تین طلاقیں ہو جانے کے بعد  اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کے لئے شرط یہ ہے کہ اس لڑکی کا کسی اور مرد سے نکاحِ صحیح ہو اور وہ اسے طلاق دے ، پھر عدت گزرنے کے بعد  سابقہ شوہر نکاح کر سکتا ہے۔ بغیر حلالہ کے اگر نکاح کرکے عورت کے ساتھ رہتا ہے توقرآن مجید کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہے ، اس کا اس  طرح رہنا  نا جائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

[البقرة: 230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.

  محمد عبدالرحمن ناصر 

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

25/10/1442

 

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔