021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خارج الصلاۃ کا لقمہ دینا
71734نماز کا بیاننما زکے جدید مسائل

سوال

دو حفاظ ہیں جو نفل نماز میں قرآن کا دور اس انداز سے کرتے ہیں کہ ایک حافظ دو رکعت کی نیت کرکے قراءت کرتاہے جبکہ دوسرا قریب بیٹھ کر قرآن مجید کھول کر سنتا ہے اور بوقتِ ضرورت لقمہ بھی دیتا ہے، کیا دور کرنے کا یہ انداز درست ہے؟

 

o

دورانِ نماز غیر مقتدی سے لقمہ لینے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے،لہذا یہ طریقہ جائز نہیں  ہے۔اس کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ دونوں حفاظ باجماعت نوافل ادا کریں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 622)
(وفتحه على غير إمامه) إلا إذا أراد التلاوة وكذا الأخذ، إلا إذا تذكر فتلا قبل تمام الفتح(بخلاف فتحه على إمامه) فإنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح وآخذ بكل حال، إلا إذا سمعه المؤتم منغير مصل ففتح به تفسد صلاة الكل، وينوي الفتح لا القراءة.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔