75518 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے مرنے سے پہلے اپناکاروبارمیرے دوبھائیوں کے نام کردیا اورانہوں نے کہاتھا اس میں سارے بہن بھائیوں کاحصہ ہے،ہم نوبہن بھائی ہیں،چاربہنیں اورپانچ بھائی ہیں،جن دوبھائیوں کے پاس کاروبارہے وہ مجھےماہانہ5ہزاردیتے ہیں اور دوبھائیوں کو10ہزاردیتے ہیں،پوچھنایہ ہے کہ وہ دوسال سے مجھے 5ہزارہی دے رہے ہیں،کیایہ رقم بڑھتی نہیں ہے؟ان کایہ عمل درست ہے یانہیں؟
o
نفع کافیصدی تناسب طے نہیں کیاگیاتھا،لہذاکاروبار میں آپ کاجتناحصہ بنتاہےتواس حصہ کی بقدرنفع کی آپ حق دار ہیں،بھائیوں کا5000 روپے متعین کرکے دینادرست نہیں،آئندہ کیلئے بھائیوں پرلازم ہے کہ وہ نفع کی فیصد طے کریں اوراسی اعتبارسے جورقم بنے وہ بہن کودیں۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔
محمد اویس بن عبدالکریم
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/جمادی الاولی1443ھ
n
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |