021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انشورنس لینے میں تعاون کا حکم
75466جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گھر والے میرے منع کرنے کے باوجود انشورنس پالیسی لینا چاہتے ہیں،چونکہ ان میں سے کوئی پڑھا لکھا نہیں ہے اس لیے وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں تاکہ میں پالیسی لینے میں ان کی مدد کروں۔میرا اس رقم اور انشورنس پالیسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے ان کے ساتھ جانا جائز ہے؟

o

مروجہ انشورنس پالیسی عموما سود اور جوے پر مشتمل ہوتا ہےجو کہ ناجائز ہے اور کسی بھی ناجائز کام میں کسی کی مدد کرنا جائز نہیں،لہذا ان کے  ساتھ تعاون جائز نہیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:
           وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب. }المائدہ:۲{
قال الإمام  الجصاص رحمہ اللہ:
وقوله تعالى :ولا تعاونوا على الإثم والعدوان، نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى.
)أحکام القرآن:(296/3
عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.  (الصحیح لمسلم:رقم الحدیث:1998)
عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: السمع  والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة.     (الصحیح للبخاری:رقم الحدیث:2955)

کاظم علی 

دارالافتاء جامعۃالرشید ،کراچی

16/جمادی الالثانیہ/1443ھ

n

مجیب

کاظم علی بن نادر خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔