021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصہ میں سات آٹھ دفعہ طلاق دیدی  توکیاحکم ہے؟
76438طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

کیافرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلےکےبارےمیں کہ بلال شریف نے اپنی بیوی سےجھگڑےکےدوران غصےسےبےقابو ہوکر پانی کاکولر چولہےپردےمارا،پھرچلتےچولہےمیں گھرکےبسترڈال دیے،اوربیوی سےکہا یہاں سےچلی جاؤ،بیوی نےکہاایک ہی بار پکا پکا بھیج دو،یہ سن کر بلال نے طیش میں آکر کہا"میں نے تمہیں طلاق دی ،اسی دوران بلال کابھائی ،بھابھی،اورپڑوسی وہاں پہنچ چکےتھے،پڑوسی نے بلال کےمونہہ پر ہاتھ رکھ کر کہا،مگرغصےسےبپھرےہوئے بلال نے ہاتھ ہٹاکرمزیدآٹھ بارطلاق کےمذکورہ الفاظ کہہ ڈالے،بلال کاغصےسے مغلوب العقل ہوکرجنونی کیفیت کاشکارہونا معروف ہے،اس کی مثالیں بلال کےاپنےبیان میں جواس استفتاء کےساتھ لف ہے،موجودہیں۔

غصب کی مذکورہ بالاکیفیت  میں(جس کےبارےمیں بلال کادعوی ہےکہ اسےالفاظ طلاق کاشعور و علم تھامگر اس کاقصدوارادہ قطعانہ تھا)دی گئی نوطلاقوں کاشریعت مطہر ہ میں کیاحکم ہے؟

عقیل کابیان :

میری اپنی بیوی سےلڑائی ہوئی ،میں نےکولراٹھاکر چھولہےپر مارا جب میری نظرآگ پرپڑی تومیں غصےسےبےقابوہوکر اس آگ پربسترپھینک دیے،جوکہ میری بھائی نےآکراٹھائے،میں نےاپنی اہلیہ کو کہاچلی جاؤ یہاں سے،اس نےکہا روزروزکی لڑائی سےایک دفعہ ہی بھیج دو،توغصےسےبےقابوہوکر میں نےاسےکہاکہ تمہیں طلاق ہے،اس نےکہاکہ آپ مکمل فارغ ہی کردومیں نےغصےمیں اسےبہت دفعہ کہاکہ تمہیں طلاق ہےجوکہ میرےبھائی نےبعدمیں بتایاکہ 8دفعہ تم نے کہاتمہیں طلاق ہے،اورجب میں طلاق دےرہاتھاتومیراکوئی ارادہ نہیں تھاکہ میں نےاسےطلاق دینی ہے،بس غصےمیں اچانک سےالفاظ میرےمنہ سےنکل گئے،بس اتناپتہ تھاکہ طلاق کےالفاظ اداءکررہاہوں،اس وقت اس کےنقصان کاپتہ نہیں تھا،جب بھی غصہ آتاتھاتواکثر گھرکی چیزیں توڑدیتاتھا ،کھانا ضائع کردیتاتھا،

شادی سےایک دن پہلےکی رات کوبھائی سےلڑائی کےبعد جوکمرہ دلہن کےلیےتیارکیاتھا،اسے توڑپھوڑ دیاساری سجاوٹ توڑدی ،اورتلوارپرنظر پڑی تواس سےدیوار یں بھی خراب کردی،اوروہاں سےبھاگ گیا،گاؤں سےباہر جانے کاکوئی بندوبست نہیں تھاتوایک جگہ گھاس پرلیٹ گیا 32 گھنٹےکےبعد گھرجاکر بہنوئی سےلڑائی کی، ایک دفعہ گھرمیں لڑائی کےبعدمیں نے مرغیوں کاایک سفید جوڑا تھااسے ذبح کرکےکتےکےآگےپھینک دیا،جب کتےنے انہیں منہ میں ڈالاتومیرےدل میں آیاکہ اس کتےکو کھاؤں ،اتنی دیرمیں کتابھاگ گیا،انہی حالات سےتنگ آکر کچھ عاملین حضرات کےپاس بھی گیا تھا،کئی دفعہ کہ ایسی حالت ہوجاتی ہے ،انہوں نے بتایاکہ تعویذ کیےگئےہیں آپ پر، ویسے عام طورپر میں اتناغصہ والانہیں ہوں ۔برائےمہربانی راہنمائی فرمائیں کہ رجوع کی کوئی گنجائش ہے؟

 

o

غصہ کی حالت کی فقہاء نے تین قسمیں بیان فرمائی ہیں،جن میں سےدوصورتوں میں طلاق واقع ہوتی ہے، ،صرف ایک صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی،وہ یہ ہےکہ اگر غصہ کےوقت شوہرکےہوش وحواس قائم نہ رہیں،اورذہنی طورپر مفلو ج ہوگیاہواوریہ معلوم نہ ہوکہ زبان سےکیاکہہ رہاہے،اوراس پرکیانتیجہ مرتب ہوتاہےاوراس کی یہ حالت وکیفیت لوگوں میں بھی  مشہورہو(طلاق کےعلاوہ دیگرمعاملات میں بھی غصہ کےوقت یہ حالت ہوجاتی ہو) توایسی صورت میں یہ شخص مجنون ومدہوش کےحکم میں ہوگااورطلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں سائل کی وضاحت کےمطابق چونکہ طلاق کےالفاظ اداء کرتےوقت اس کویہ معلوم تھاکہ میں طلاق کےالفاظ اداء کررہاہوں ،اس لیےاس صورت میں طلاق واقع ہوجائےگی،اورچونکہ صریح طلاق کےالفاظ تین دفعہ سےزیادہ استعمال کیےگئےہیں،اس لیےطلاق مغلظہ واقع ہوکربیوی شوہر پرحرمت مغلظہ کےساتھ حرام ہوچکی ہے،اب بغیر حلالہ کےدوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

"الفقه على المذاهب الأربعة " 4 / 142:
 أما طلاق الغضبان فاعلم أن بعض العلماء قد قسم الغضب إلى ثلاثة أقسام :
 الأول : أن يكون الغضب في أول أمره فلا يغير عقل الغضبان بحيث يقصد ما يقوله ويعلمه ولا ريب في أن الغضبان بهذا المعنى يقع طلاقه وتنفذ عباراته باتفاق
 الثاني : أن يكون الغضب في نهايته بحيث يغير عقل صاحبه ويجعله كالمجنون الذي لا يقصد ما يقول ولا يعلمه ولا ريب في أن الغضبان بهذا المعنى لا يقع طلاقه لأنه هو والمجنون سواء
 الثالث : أن يكون الغضب وسطا بين الحالتين بأن يشتد ويخرج عن عادته ولكنه لا يكون كالمجنون الذي لا يقصد ما يقول ولا يعلمه والجمهور على أن القسم الثالث يقع به الطلاق ۔
 
"الھندیہ" 1/353 :ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدھوش ۔
"بدائع الصنائع"3/100 :ومنہاأن لایکون معتوھاولامدھوشا ولامبرسماولامغمی علیہ ولانائمافلایقع طلاق ھؤلآء لماقلنا۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 268:
وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، فأجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان ۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 269:
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته، فما دام في حال غلبة الخلل في الاقوال والافعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها، لان هذه المعرفة والارادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح ۔
"رد المحتار " 10 /  485:
( قوله والمجنون ) قال في التلويح : الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب ، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها ، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة ، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة ، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا ۔
وفي البحر عن الخانية : رجل عرف أنه كان مجنونا فقالت له امرأته : طلقتني البارحة فقال : أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله ۔
"ھدایۃ " 2 /378:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

23/شعبان   1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔