021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آڑھتی کامزدوری کےنام پررقم لیکرخودرکھنا
77556اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم فروٹ مارکیٹ میں آڑھتی کی خدمت فراہم کرتے ہیں،اس کام میں ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ آڑھتی حضرات بیوپاری سے مزدوری   کےنام سے مخصوص رقم کاٹتے ہیں جوکہ کمیشن  کی رقم کے علاوہ ہوتی ہے،لیکن یہ مزدوری کی مد میں کاٹی گئی رقم آڑھتی خود رکھ لیتے ہیں اورمزدورکو مخصوص رقم تنخواہ کی مدمیں دیتے ہیں اورمزدور تنخواہ کے علاوہ ڈالے کے  نام پر ٹرک والے سے اتروائی لیتے ہیں،پوچھنایہ ہے کہ آڑھتی صاحبان کامزدوری کےنام پرلی گئی رقم خودرکھناجائز ہے یانہیں؟

o

ٓڑھتی جب بیوپاری سے کسٹمرزفراہم کرنے کے ساتھ سامان اتارنے وغیرہ کامعاوضہ بھی مزدوری کے نام سے لیتے ہیں تو سامان اتروانے کی ذمہ داری آڑھتی  پرہے، لہذا مزدوروں کی مزدوری بھی آڑھتی پرہے،اس لئے مزدوروں کیلئے ٹرک والےسے  ڈالے کے نام سے اجرت کامطالبہ کرنادرست نہیں۔

حوالہ جات

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 20 / ص 246)
( ولا يستعمل غيره إن شرط عمله بنفسه ) يعني ليس للأجير أن يستعمل غيره إذا شرط عليه أن يعمل بنفسه ؛ لأن المعقود عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة كما إذا استأجر رجلا للخدمة شهرا لا يقوم غيره مقامه في الخدمة ولا يستحق به الأجر ( وإن أطلق له أن يستأجر غيره ) لأن الواجب عليه عمل مطلق في ذمته ويمكن الإيفاء بنفسه وبغيره كالمأمور بقضاء الدين .
وفی رد المحتار (ج 24 / ص 161):
 ( وإن أطلق كان له ) أي للأجير أن يستأجر غيره۔

محمد اویس بن عبدالکریم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

17/01/1444

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔