021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف اوقات میں تین طلاق دینے کا حکم
77981طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

زیدنےاپنی زوجہ زینب کودوطلاقیں دیں، جبکہ وہ حاملہ تھی، پھر دوران عدت ان میں صلح ہوگئی، اس کے بعد بیٹی پیداہوئی، اب پھر ان میں تلخ کلامی ہوگئی توزیدنےزینب کودوطلاقیں پھر دے دیں۔ اب پوچھنایہ ہے کہ زینب کوتین طلاقیں واقع ہوگئیں یادوہی واقع ہوئیں؟

o

 صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ  صاف لفظوں میں طلاق دینے سے اس کی بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب  ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ نیز تین طلاقوں کے بعد رجوع بھی نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں،  البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعدغیر مشروط طور پر  کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدےیا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدتِ طلاق یا عدتِ وفات گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

واضح رہے کہ تین طلاقوں کے تین ہونے پر صحابہ کرام، ائمہ اربعہ اور امت کے جمہور مجتہدین، محدثین، فقہائے کرام اور  اہل السنت والجماعت کا اتفاق ہے، خود امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح البخاری میں تین طلاق کے تین ہونے پر روایات نقل کی ہیں، لہذا اسی موقف پر عمل کرنا ضروری ہے، امت کے اتفاقی موقف سے ہٹ کر کسی اور موقف کے مطابق عمل کرنا یقیناً گمراہی اور ضلالت ہے، جس سے بچنا واجب ہے۔

یہ بھی یادرہے کہ شرعاً تین طلاقیں دینا ہی مشروع اور جائز ہیں، اس سے زیادہ طلاقیں دینا خلافِ شریعت ہے، جس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ فرمائی ہے، لہذا تین سے زائد طلاقیں دینا شرعا گناہ ہے، جس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے ایسے فعل سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [البقرة: 229، 230]:
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
             الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز۔
 

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/ربیع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔