| 81027 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ہم ویب سائٹس بنانے کا کام یعنی ویب ڈیزائننگ کرتے ہیں اور اگر کسی کو یہ کام سیکھنا ہو تو اسے بغیر معاوضے کے سکھاتے ہیں اس شرط پر کہ وہ کام سیکھ کر ہمارے پاس ہی کام کرے گا جس سے اس کا بھی روزگار لگے گا اور ہمیں بھی کام کرنے والے اچھے لوگ میسر آسکیں گے، کام سیکھنے کے دوران ہم ان سے بطور فیس تو کچھ نہیں لیتے (جبکہ اگر وہ کسی ادارے سے سیکھیں تو ماہانہ کم از کم دس ہزار فیس ادا کرنی ہوتی ہے) بلکہ انہیں آنے جانے کا ماہانہ 5ہزار خرچہ دیتے ہیں اور یہ بات انہیں پہلے ہی بتائی جا چکی ہوتی ہے کہ ہم آپ کو جو بغیر فیس کے سکھا رہے ہیں اور جو پیسے دے رہے ہیں یہ آپ پر بطور انویسٹمنٹ کے ہیں تاکہ جب آپ کام سیکھ لیں اور ہمارے پاس کام کریں تو آپ کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی فائدہ ہو۔ اسی طرح ہمارے پاس ایک لڑکا کام سیکھنے آیا اور چھ ماہ تک ہم سے وہ کام سیکھتا رہا اور اس دوران ہر ماہ اسے خرچہ بھی ہم دیتے رہے اور یہ بات اسے ہم بتا چکے تھے کہ تمہیں بغیر کسی معاوضے کے سکھانا اور یہ پانچ ہزار ماہانہ دینا یہ آپ پر ہماری انویسٹمنٹ ہے، کوئی معاوضہ نہیں ہے کیونکہ آپ یہاں ملازمت نہیں کررہے، کام سیکھ رہے ہیں اور بعد ازاں آپ ہمارے پاس ہی کام کریں گے، یہ تمام باتیں انہیں بتائی جا چکی تھیں، اب جب کہ چھ مہینے ہو گئے تو انہوں نے آفس یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ کام کرنے سے میرے والد مجھے منع کررہے ہیں، کیونکہ ویب سائٹ میں تصاویر ہوتی ہیں، حالانکہ یہ بات انہیں 6 ماہ قبل بھی معلوم تھی۔ براہ کرم درج ذیل سوالات کے مفصل علیحدہ علیحدہ جوابات عنایت فرمائیں۔
- کیا ہم اس لڑکے سے چھ ماہ تک مشروط طور پر دیے گئے 30 ہزار کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟ اور کیا اس لڑکے پر ان پیسوں کا ہمیں واپس کرنا لازم ہوگا ؟
- ہمارے ہاں سیکھنے کے اس چھ ماہ کے عرصہ میں ہمارے ایک ملازم نے اسے کام سکھایا تاکہ وہ سیکھ کر اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی نفع پہنچائے لیکن اس نے وعدہ خلافی کرکے کام ہی چھوڑ دیا تو کیا اس صورت میں اسے کام سکھانے والا ہمارا ملازم یا ہم اس سے چھ ماہ کام سکھانے کی اجرت مثل (معیاری ٹریننگ جو ہم نے اس لڑکے کو دی تھی اس کی فیس کم از کم دس ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے) کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور کیا اس پر اس اجرت مثل کا ادا کرنا واجب ہوگا؟ کیونکہ اس نے فیس نہ دینے کی وجہ (ہمارے پاس کام کرنے کی شرط) کو خود ہی ختم کردیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں اجارہ دو وجہ سے فاسد ہے :
- بدل الاجارہ مجہول ہے، معلوم طور پر طے شدہ فیس کے بجائے اپنے ساتھ کام کرنے کی شرط لگائی ہے۔
- عقد اجارہ میں ایسی شرط لگائی ہے جو مقتضیٰ عقد کے خلاف ہے۔
بدل الاجارہ مجہول ہونے کی وجہ سے اگر اجارہ فاسد ہوجائے تو اجرت مثل واجب ہوتی ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں بالترتیب سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
- پانچ ہزار روپے ہبہ بشرط العوض ہے۔ ہبہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ ہبہ درست ہوتا ہے اور شرط فاسد ساقط الاعتبار ہوتی ہے۔ لہٰذاان پیسوں میں آپ متبرع ہیں ان کی واپسی کے مطالبے کا آپ کو حق حاصل نہیں۔البتہ لڑکے کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ شرط کی رعایت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ ان پیسوں کو واپس کرے۔اس کو اجرت مثل کہتے ہیں۔
- لڑکے نے حقیقتاً جتنا کام سیکھا ہے اگر اتنا کام وہ اس معیار کے کسی دوسرے ادارے میں سیکھتا تو جتنی فیس وہ ادا کرتا، اتنی فیس آپ کو دینے کا پابند ہےاور اس مقدار تک فیس لینے کے مطالبے کا آپ کو حق حاصل ہے۔
نوٹ: مذکورہ شرائط پر ویب ڈیزائننگ کے کام سکھانے میں شرعی خرابیاں ہیں۔ اس کا جائز شرعی متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ آپ طالب علم کو متعین فیس بتاکر یہ کام سکھائیں اور فیس ابھی وصول نہ کریں بلکہ سیکھنے کے بعد جب وہ آپ کے پاس ( جب آپ نے اپنے ساتھ کام کرنے کی شرط نہ لگائی ہو) یا کہیں اور ملازمت کرنا شروع کرے تو قسطوں میں اس سے فیس وصول کریں یا اتنے پیسوں کے بدلے ان سے کام لیں۔
( ویب ڈیزائننگ کے جواز اور شرائط کے لیے درجہ ذیل لنک پر جامعہ کے دوسرے فتاوی ملاحظہ فرمائیں۔)
حوالہ جات
(المادة 462) فساد الإجارة ينشأ بعضه عن كون البدل مجهولا وبعضه عن فقدان باقي شرائط الصحة. ففي الصورة الأولى يلزم أجر المثل بالغا ما بلغ وفي الصورة الثانية يلزم أجر المثل بشرط أن لا يتجاوز الأجر المسمى.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 511)
وتكون الإجارة صحيحة بالشروط الآتية والشروط فيها معتبرة:
1 - إذا كانت مما يقتضيه العقد.
2 - إذا كانت متعارفة.
وتكون الإجارة صحيحة مع الشرط الآتي والشرط لغو.
1 - إذا لم يكن فيه نفع لأحد العاقدين.
وتكون الإجارة فاسدة إذا وقع فيه شرط مفسد للبيع.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 430)
أما إذا كان العوض غير معلوم أي مجهولا فيكون هبة ابتداء وانتهاء (أبو السعود، رد المحتار) لأن شرط العوض المجهول باطل ولا تفسد الهبة بالشرط الفاسد (الدرر، عبد الحليم، الفتح) .
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 513)
ثامنا - تكون الإجارة فاسدة إذا ربطت بشرط فاسد لأن العقد والمنافع يصبحان مالا متقوما.
فعليه لما كانت الإجارة كالبيع معاوضة مالية والبيع يفسد بأمثال هذا الشرط فتفسد الإجارة به أيضا (الزيلعي) .
العناية شرح الهداية (9/ 52)
(فإن وهبها له على أن يردها عليه أو على أن يعتقها أو أن يتخذها أم ولد أو وهب دارا أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها أو يعوضه شيئا منها فالهبة جائزة والشرط باطل) ولا يتوهم التكرار في قوله على أن يرد عليه شيئا منها أو يعوضه لأن الرد عليه لا يستلزم كونه عوضا، فإن كونه عوضا إنما هو بألفاظ تقدم ذكرها، وإنما بطل الشروط لأنها فاسدة لمخالفتها مقتضى العقد، لأن مقتضاه ثبوت الملك مطلقا بلا توقيت، فإذا شرط عليه الرد أو الإعتاق أو غير ذلك فمقيد بها، والهبة لا تبطل بالشروط الفاسدة. وأصل ذلك ما روي «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أجاز العمرى وأبطل شرط المعمر في رجوعها إليه بعد موت المعمر له وجعلها ميراثا لورثة المعمر له» ، بخلاف البيع فإنه يبطل بالشروط الفاسدة «لأنه - عليه الصلاة والسلام - نهى عن بيع وشرط» ولأن الشرط الفاسد في معنى الربا وهو يعمل في المعاوضات والهبة ليست منها.
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
27/محرم الحرام/ 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


