021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تراویح کے ہر سجدہ پر 1500 نیکیوں کی روایت کی تحقیق
70950حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

تراویح کے ہر سجدہ پر 1500 نیکیاں ملنا، امام بیہقی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں اس روایت کو نقل فرمایا ہے، اس روایت کی تحقیق چاہئے کہ یہ روایت قابل بیان ہے یا نہیں؟

o

اس روایت کو امام بیہقی رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ منذری  نے بحوالہ بیہقی "الترغیب والترھیب" میں بھی نقل کیا ہے، اسی طرح کنزل العمال میں بھی یہ روایت ہے۔

 اس روایت کو  علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے موضوع کہا ہے ،البتہ اس رائےمیں وہ متفرد ہیں،لیکن اصول  کے لحاظ سے ان کی بات درست معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ مختصر عمل پر بہت زیادہ اجروثواب سے متعلق احادیث اکثر موضوع ہوتی ہیں،علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے وجہ نقد بھی بیان کی ہے، اس لیے بھی موضوع ہونا قرین قیاس ہے،نیز اس زیادتی میں اس روایت کا نہ تو کوئی متابع یا شاہد ہے اور نہ کثرت طرق کی وجہ سے اس کو سہارا مل سکتا ہے،لیکن دوسری طرف ان سے پہلے کبار محدثین واصحاب تخریج میں سے کسی نے بھی اس کو موضوع نہیں کہا ،بلکہ محدثین کبار کے صنیع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث زیادہ سے زیادہ ضعیف ہے جس کو فضائل میں بیان کیا جاسکتا ہے،لہذا احتیاط تو اسی میں ہے کہ حتی الوسع اس کوبطور حدیث نبوی کے بیان نہ کیا جائے، بالخصوص فی زمانہ جبکہ لوگ صرف رمضانی مسلمان  بنتے جارہے ہیں،اور جہاں ترغیب عمل کے لیے بیان کیا جائے تو یا تومحض بطور ایک روایت کے نقل کیا جائے یا سند اورروایت کی رو سےاس کی کمزوری کو بھی ساتھ بیان کیا جائے۔

حوالہ جات

سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة (11/ 827)
 (إذا كان أول ليلة من رمضان؛ فتحت أبواب السماء؛ فلا يغلق منها باب حتى يكون آخر ليلة من رمضان.
فليس من عبد مؤمن يصلي ليلة؛ إلا كتب الله له ألفا وخمس مئة حسنة بكل سجدة، ويبنى له بيت في الجنة من ياقوتة حمراء، لها ستون ألف باب [لكل باب] منها قصر من ذهب موشح بياقوتة حمراء.
فإذا صام أول يوم من رمضان؛ غفر له ما تقدم إلى مثل ذلك اليوم من شهر رمضان.
ويستغفر له كل يوم سبعون ألف ملك من صلاة الغداة إلى أن توارى بالحجاب، وكان له بكل سجدة يسجدها في شهر رمضان بليل أو نهار شجرة يسير الراكب في ظلها خمس مئة عام) .
موضوع
أخرجه البيهقي في "الشعب" (3/ 314/ 3635) ، والأصبهاني في "الترغيب" (180/ 1) من طريق محمد بن مروان السدي عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة العبدي وعن عطاء بن أبي رباح عن أبي سعيد الخدري مرفوعا.
قلت: والسدي هذا - وهو الصغير - متهم بالكذب.
ولست أدري لماذا لم يورد ابن الجوزي حديثه هذا في "الموضوعات"؟! وقد أورد له حديثا في الصلاة على النبي - صلى الله عليه وسلم -؛ وقال فيه:
"كذاب"؛ كما تقدم برقم (203) ؛ فلعله لم يقف عليه.
وقد أساء المنذري بإيراده إياه في "الترغيب" (2/ 66-67) دون أن يبين حال راويه؛ فإنه لم يزد على قوله:
"رواه البيهقي، وقال: "قد روينا في الأحاديث المشهورة ما يدل على هذا، أو لبعض معناه". كذا قال رحمه الله"!!
وكأن المنذري أشار إلى نقد كلام البيهقي؛ فإنه ليس في الأحاديث المعروفة ما في هذا إلا الفقرة الأولى؛ فإنها في "الصحيحين" من حديث أبي هريرة نحوه.
وقنع المنذري بالإشارة إلى تضعيفه فقط!
وقلده المعلقون الثلاثة، فصرحوا بأنه "ضعيف"؛ مع أنهم عزوه للبيهقي والأصبهاني بالأرقام! ولا يحسنون إلا هذا:كالعيس في البيداء يقتلها الظما * * * والماء فوق ظهورها محمول.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۰جمادی الاولی ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔