021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت میں چھوڑی ہوئی نقدرقم کی تقسیم
77934میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

وراثت میں چھوڑی گئی نقد رقم کی تقسیم(ایک لاکھ کے حساب سے ۔شکیل اللہ خاں ( مرحوم ) غیر شادی شدہ کے والدین کا انتقال 22 سال پہلے ہو گیا ہے ۔ شکیل اللہ خان کے موجودہ حیات وارثوں کی تفصیل

ا۔ ظفر اللہ خاں ( بھائی (ظفر اللہ خاں کی ایک بیٹی (حیات (

۔ عمران اللہ خاں (بھائی) عمران اللہ خان کے دو بیٹے (حیات(

۳۔ سیمابیگم(بہن) سیما بیگم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ( حیات (

 شکیل  اللہ  خان مرحوم  کے دیگر  رشتے داروں کی  تفصیل

ا۔ مرحومہ یاسمین بیگم ( بہن﴾  جو شکیل  اللہ  خان کی زندگی میں ان کے انتقال  سے تقریبا دس سال  پہلے انتقال کرچکی  ہے ۔

الف۔ یاسمین بیگم کا بیٹامحمد ریحان ( حیات ﴾

ب ۔ یاسمین بیگم کی بیٹی بشری بیگم (حیات ﴾

۲۔ ظفر اللہ خاں کا بیٹا عبید اللہ خاں (مرحوم﴾

عبید اللہ خاں کی بیٹی عائشہ خان (حیات ﴾

نوٹ؛

مرحوم شکیل اللہ خاں پر کوئی قرض واجب الا دانہیں ہے ۔

۲۔ کیا شکیل اللہ خاں کی بیماری ، تدفین کے اخراجات چھوڑی ہوئی رقم سے منہا کیے جاسکتے ہیں؟

۳۔ کیا مرحوم شکیل اللہ خاں کی وراثت میں چھوڑی گئی رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کی جاسکتی ہے؟

۴۔ کیا وارثوں سے پوچھناضروری ہے کہ چھوڑی گئی رقم کومسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جاۓ؟

۔ اگر وارث اجازت نہ دیں تو ان کا حصہ انکودینا ہوگا؟

o

شکیل  اللہ خان مرحوم نے بوقت  انتقال   منقولہ  غیر منقولہ   جائداد ، نقدی  ، سونے چاندی   اور   چھوٹا بڑا  جوبھی سامان   اپنی  ملك میں چھوڑا  ہے  ،سب  مرحوم کاترکہ ہے ،   سب سے  پہلے  اس میں سےکفن دفن کامتوسط خرچہ  نکالاجائے ،    اگر  ان کے   ذمے  واقعی  کسی کا قرض  نہیں  ہے ، تو دیکھا  جائے  کہ اگر مرحوم نے  كسی  غیر وارث كے حق میں کوئی  جائز  وصیت  کی ہو   تو تہائی مال کی حدتک  اس پر عمل کیاجائے ۔ اس کے بعدباقی  مال کو  مرحوم کے بھائی  بہنوں میں تقسیم کیاجائے گا۔ مساوی پانچ حصے بناکر اس میں سےدونوں   بھائیوں   کو دد دو حصے  اور    بہن کو  ایک  حصہ دیا جائے ۔

اگر  کل  قابل تقسیم   رقم ایک  لا  کھ ہی   ہے  تو    اس کو  اسطرح  تقسیم کیا جائے  گا ۔

بہن کو   20 ہزار  اور   دونوں بھا ئیوں  میں   سے ہرایک کو  40 ہزار  دیاجائے گا ۔

 یعنی صورت  مسئولہ  میں بہن کا 20 فیصد  حصہ ہے ،اور  ہر بھائی کا40 فیصد   ۔ان تینوں  کے  علاوہ  کسی  بھتیجے  بھانجے  وغیرہ   کو  حصہ نہیں ملے گا۔

اگر  تمام  ورثا ء بالغ ہیں اور   سب اپنی خوشی  سے  اپنے حصے کی پوری  رقم  تعمیر  مسجد میں  لگانا  چا  ہیں     تو  شرعا  اس کی اجازت  ہے،  لیکن  اگر   بعض راضی   ہیں  اور بعض  نہیں ، تو جو وارث   مسجد  میں  دینے  پر راضی  نہیں  ہے پہلے میراث  میں سےاس کا  حصہ نکال کر  اسے دیدیا جائے  ، اس کے بعد  بقیہ  مال   تعمیر  مسجد  میں  خرچ  کیا جاسکتا   ہے۔       

حوالہ جات

......

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

یکم ربیع  الاول ١1444ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔