021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غسل کے پانی کی چھینٹیں پاک پانی میں پڑجائیں توپانی کاحکم
55110 .3پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

غسل کرتے وقت یاوضوکرتے وقت اگرناپاک پانی کے چھینٹے اس پاک پانی میں لگ جائیں، جس سے غسل یاوضوکیاجارہاہوتوکیاوہ پاک پانی ناپاک ہوجائے گاجبکہ پاک پانی کی مقدارزیادہ ہو؟

o

اگرغسل جنابت کے پانی کی چھینٹیں گری ہوں تووہ پاک ہیں ،ان سے پانی ناپاک نہ ہوگااوراگر اس پانی کی چھینٹیں جس سے نجاست حقیقیہ کوزائل کیاگیاہوپانی میں گرجائیں ،توپانی ناپاک نہ ہوگا،اورایسے پانی سے وضوء اورغسل جائزنہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار" 2 / 148: ( قوله ولا بتقاطر بول إلخ ) تبع فيه صاحب الدرر ، وأشار في الفيض إلى ضعفه ، وذكر القهستاني في الأنجاس أنه إن وقع في الماء نجسه في الأصح ، وكذا ذكره الحدادي عن الكفاية معللا بأن طهارة الماء آكد ، وبأنه لا حرج في الماء : أي بخلاف البدن والثوب ، وبه جزم الشارح في الأنجاس أيضا ، فعلم أن كلام المصنف مبني على القول الضعيف كما نبه عليه العلامة نوح أفندي ۔ "رد المحتار" 2 / 490: والحاصل أن المائع متى أصابته نجاسة خفيفة أو غليظة وإن قلت تنجس ولا يعتبر فيه ربع ولا درهم ، نعم تظهر الخفة فيما إذا أصاب هذا المائع ثوبا أو بدنا فيعتبر فيه الربع كما أفاده الرحمتي۔ "البحر الرائق" 1 / 191: وفي الخلاصة: جنب اغتسل فانتضح من غسله شئ في إنائه لم يفسد عليه الماء، أما إذا كان يسيل فيه سيلانا أفسده، وكذا حوض الحمام على هذا. وعلى قول محمد لا يفسده ما لم يغلب عليه يعني لا يخرجه من الطهورية ا ه‍. بلفظه۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔