021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرمسجد میں چوری کی بجلی استعمال ہورہی ہوتونمازی گناہ گارہیں یانہیں ؟
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

اگرمسجد میں چوری کی بجلی استعمال ہورہی ہوتوتوہمارے اوپرطنز کرتے ہیں کی چوری کی بتی جل رہی ہے اورتم نمازپڑھ کرآگئے اوران کویعنی طنزکرنے والوں کوکئی دفعہ دیکھاوہاں نمازپڑھتے ہوئے، چوری کی بتی جل رہی ہوتونمازی گناہ گارہیں یانہیں ؟بتیاں جلتی رہتی ہیں، بندنہیں کرتے، سوتے رہتے ہیں ۔ o "قواعدالفقہ"/ 110: لایجوزلاحدان یتصرف فی ملک الغیربغیراذنہ ۔ تنبیہ1:باقی جوآپ نےلکھاہے کہ بتیاں جلتی رہتی ہیں اورنمازی سوتے رہتے ہیں ،یہ جائزنہیں،مسجدمیں ضرورت سے زائدبجلی استعمال کرناجائزنہیں ،نمازیوں پرلازم ہے اگرضرورت سے زائدبتیاں جل رہی ہوں توان کوبند کریں ،وقف کامال ضائع کرناگناہ ہے ۔

o

اگرنمازیوں کومعلوم ہوکہ چوری کی بجلی ہے توان کے ذمہ ہے کہ مسجد کی انتظامیہ کوخوف دلائے کہ اس ناجائزاستعمال کوختم کرکے قانونی طریقے سے بجلی کاکنکشن لیں ورنہ سارے نمازیوں کاوبال آپ پرہوگا، اگرانتظامیہ نہیں مانتی توکوشش کریں علاقے کی کسی دوسری مسجد میں نمازیں پڑھیں ،اوراگرقریب میں کوئی مسجد نہ ہواورانتظامیہ بھی مسئلے کوحل نہ کرے، تونمازیں پڑھتے رہیں اوراستغفاربھی کرتے رہیں ،اس کاگناہ نمازیوں پرنہیں ہوگا،بلکہ انتظامیہ پرہوگا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" 19 / 232: ولو وقف على دهن السراج للمسجد لا يجوز وضعه جميع الليل بل بقدر حاجة المصلين۔ تنبیہ2: مسجد میں سونے کاحکم یہ ہے کہ معتکف اوراس مسافر کے سواجس کی رہائش کاکوئی بندوبست نہ ہو،باقی لوگوں کے لئے مکروہ ہے ،اگربہت ہی مجبوری ہواورمسجد میں سوناپڑے تواعتکاف کی نیت کرلینی چاہئے ۔ "الفتاوى الهندية " 43 / 27: ويكره النوم والأكل فيه لغير المعتكف ، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء ، كذا في السراجية .
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔