021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازمین کا اعلی ہوٹل کابل بناکرزیادہ رقم وصول کرنا،جبکہ خرچہ سرے سے ہواہی نہ ہو،یاکم ہواہو؟
..جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

حکومت کسی شخص کوسرکاری کام پربھیجتی ہے اوروہ اسکاکھاناسفرکے اخراجات اوررہنے کے اخراجات حکومت دیتی ہے اوریہ شخص کھاناکسی گھرمیں کھاتاہے ،سفرعام گاڑی میں کرتاہے حکومت سے ہوٹل کے کھانے کابل اورگاڑی میں بکنگ کے پیسے لیتاہے اورہوٹل میں رہنے کے خرچ بھی لیتاہے حالانکہ کسی کے گھررہتاہے کیاحکومت سے اس طرح رقم لیناجائزہے؟ یاکم اخراجات کرکے حکومت سے زیادہ پیسے لیناشرعاکیساہے ؟

o

اگرحکومت کی طرف سے اس کی اجازت ہوتوجائز ہوسکتاہے ،لیکن عام طورپرحکومت یاکسی بھی ادارے کے مالکان اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ملازم کم خرچ کرکے طعام وقیام کی مد میں زیادہ خرچہ وصول کرے ،طعام وقیام کاحقیقی خرچ تووصول کرسکتاہے ،اس سے زیادہ رقم وصول کرناجائزنہیں ،کیونکہ یہ دھوکہ بھی ہے اوراس کے لئے جھوٹ اورغلط بیانی بھی لازمی طور پرکرنی پڑے گی ۔

حوالہ جات

" صحيح مسلم للنيسابوري '1 / 69: عن أبيه عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا »۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔