021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعلیق طلاق کی تکرار میں شوہر اور سامعین کے اختلاف کا حکم
77540طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سید صفدر نے جھگڑے کے دوران اپنے سالے کے سامنے میں "منا رن طلاق، (میکوں عورت طلاق )میں تجھے چھوڑوں ۔" کے الفاظ کہے ہیں، ان کا حکم کیا ہے؟ سامعین( صفدر کے سالہ اور لڑکی کے بھائی) کی گواہی کے مطابق صفدرنے یہ الفاظ تین بار سے زیادہ کہے ہیں،جبکہ خود صفدر کو ان کے دو یا اس سے زائد بار کہنا یاد نہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ اس بارے میں دار الافتاء خیر المدارس کا فتوی بھی ساتھ منسلک ہے، اس کی تصدیق وتصویب بھی مطلوب ہے۔

o

صفدر نے چونکہ مذکور طلاق والا جملہ اپنے سالے کے جملوں کے جواب میں تنگ آکر کہا تھا،اس لیے اس کا مقصد یہ ہے کہ ابھی میں تم سے ضرور نمٹوں گا ،اس کے بعد دونوں میں صلح ہوگئی اور صفدر نے اس کو چھوڑدیا تو وہ طلاق جو سالے کو چھوڑنےپر  معلق کی تھی واقع ہوگئی،اس کو یمین فور کہتے ہیں،باقی اس صورت میں کل کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟اس کا مدار اس پر ہے کہ صفدر نے مذکورہ جملہ کتنی مرتبہ کہا ہے ؟جتنی مرتبہ یہ جملہ کہا ہو،قضاء اتنی ہی طلاقیں واقع ہوں گی،صفدر کواگرکچھ یاد نہیں تو اپنے غالب گمان پر عمل کرے جس عدد کا غالب گمان ہے ،اتنی ہی طلاقیں واقع سمجھے۔

یہ حکم شوہر کے لیےہے، عورت یعنی بیوی اگر ایک سے زائد طلاقوں کا دعوی کررہی ہو اور اس پر معتبر گواہ بھی پیش کرے تو اس کا دعوی ثابت ہوگااور اگر اس کے پاس ایسے گواہ نہ ہوں،مگر اس کو خبر دینے والوں کی خبر سے اس بات کا غالب گمان ہوجائے  کہ شوہر نے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں تو ایسے  میں اس کے لیے دیانۃ شوہر کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 376)
 في أيمان الفتح ما لفظه، وقد عرف في الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث، وأقره المصنف ثمة.
 (قوله وقع الثلاث) يعني بدخول واحد كما تدل عليه عبارة
أيمان الفتح، حيث قال: ولو قال لامرأته والله لا أقربك ثم قال والله لا أقربك فقربها مرة لزمه كفارتان. اهـ. والظاهر أنه إن نوى التأكيد يدين ح.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 305)
قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 782)
(قوله دين) أي يوكل إلى دينه فيما بينه وبين ربه تعالى وأما القاضي فلا يصدقه لأنه خلاف الظاهر، وقدمنا في الطلاق أن المرأة كالقاضي

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۷محرم۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔