021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قادیانی کے داخل اسلام ہونے کی شرائط
..ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مئلہ کے بارے میں کہ ١۔کسی قادیانی کے داخل اسلام ہونے کے لئے ہمارے اکابر نے جوشرائط لکھی ہیں مثلا شہادتین کا اقرار، میرزا غلام احمد پر لعنت ،قادیا نیت سے مکمل برات کا اعلان کرنا،ان شرائط کی حقیقت کیا ہے؟

o

الجواب باسم ملہم الصواب ١۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہوگا ، آپ پر ایمان لانا ہر مسلمان کے ایمان کاضروری حصہ ہے ،آپ علیہ السلام کے علاوہ کسی اور شخص کو نیا نبی تسلیم کرنا ایمان کے منافی ہے ( سورة الحزاب40) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا دلائل النبوة للبيهقي (7/ 482، بترقيم الشاملة آليا) وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي ، وإني خاتم النبيين ، لا نبي بعدي » قادیانی چونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کا آخری نبی تسلیم کرنے کی بجائے مرزا غلام احمد کذّاب کو نبی مانتے ہیں، اس لئے دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ کسی بھی قادیانی کے داخل اسلام ہونے کے لئے ضروی ہوگا کہ شہادتین کااقرار کرے، یعنی مسلمانوں کا کلمہ اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمد رسول اللہ پڑھے، دل سے اللہ تعالی کی وحدانیت اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیامت تک کے لئے اللہ کے رسول ہونے کا یقین کرے اور زبان سےان دونوں باتوں کا اقراربھی کرے ۔۲۔مرزا غلام احمد قادیا نی کو نبی ماننے سے بیزاری کا اعلان کرے، کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا کذاب ہے اب تک جومیرا اس سے تعلق رہا اس سے توبہ کرتا ہوں آیندہ کے لئےمیرا اس سے کوئی تعلق نہیں ، قران کریم اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہی میرے لئے مشعل راہ ہیں ۔

حوالہ جات

رد المحتار (16/ 269) قوله وفي الخامس بهما مع التبري إلخ ) ذكر ابن الهمام في المسايرة ، أن اشتراط التبري لإجراء أحكام الإسلام عليه لا لثبوت الإيمان فيما بينه وبين الله تعالى ، فإنه لو اعتقد عموم الرسالة وتشهد فقط كان مؤمنا عند الله تعالى .ا هـ . ثم إن الذي في البدائع : لو أتى بالشهادتين لا يحكم بإسلامه حتى يتبرأ عن الدين الذي هو عليه . وزاد في المحيط : لا يكون مسلما حتى يتبرأ من دينه مع ذلك ويقر أنه دخل في الإسلام لأنه يحتمل أنه تبرأ من اليهودية ودخل في النصرانية ، فإذا قال مع ذلك ودخلت في الإسلام يزول هذا الاحتمال . وقال بعض مشايخنا : إذا قال دخلت .في الإسلام يحكم بإسلامه وإن لم يتبرأ مما كان عليه لأنه يدل على دخول حادث منه في الإسلام ا هـ ومثله في شرح السير الكبير . قلت : اشتراط قوله ودخلت في دين الإسلام ظاهر فيما إذا تبرأ من دينه فقط ، أما إذا تبرأ من كل دين يخالف دين الإسلام فلا يحتاج إليه لعدم الاحتمال المذكور ، فلذا لم يذكره الشارح مع صيغة التبري التي ذكرها . والظاهر أنه لو أتى بالشهادتين وصرح بتعميم الرسالة إلى بني إسرائيل وغيرهم أو قال أشهد أن محمدا رسول الله إلى كافة الخلق الإنس والجن يكفي عن التبري أيضا كما صرح به الشافعية .
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔