021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیت الخلاء میں ننگے پاؤں داخل ہونے کا حکم
..پاکی کے مسائلاستنجاء کا بیان

سوال

سوال گھر کے بیت الخلاء میں اگر ننگے پاؤں داخل ہوجائیں تو پھر باہر آنے کے بعد وہ قدم جہاں جہاں لگیں گے اس جگہ کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ پاک ہے یا ناپاک اور وہاں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟

o

بیت الخلاء ناپاکی کی جگہ ہے ۔نیز بچے بھی اسے غیر محتاط انداز میں استعمال کرتے ہیں ۔ لہذا ہمیشہ چپل لیکر استعمال کیاجائے ۔البتہ کسی ضرورت سے کوئی جائے اور فرش خشک ہو توپاؤں ناپاک نہ ہونگے ،اسی طرح اگر کوئی ننگے پاؤں بیت الخلاء میں داخل ہوا ،لیکن اس کے پاؤں میں کوئی ظاہری نجاست ﴿ بڑا چھوٹا پیشاب یا استنجا کی چھینٹیں ﴾نہیں لگیں تو صرف ننگے پاؤں داخل ہونے کی وجہ سے پاؤں ناپاک نہیں ہونگے اور نکلنے کے بعد گیلے پاؤں لگنے سے فرش یا قالین ناپاک نہ ہوگا ۔اور اگر پاؤں میں کوئی ظاہری نجاست لگی اور اس کو دھوئے بغیر ہی باہر آگیا اور نجس پاؤں کے ساتھ فرش قالین پر چلنے کی وجہ سے نجاست فرش قالین پر لگ گئیں توقالین فرش ناپاک ہوجائے گا ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 346) لف طاهر في نجس مبتل بماءإن بحيث لو عصر قطر تنجس وإلا لا.ولو لف في مبتل بنحو بول، إن ظهر نداوته أو أثره تنجس وإلا لا.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔