021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حقِ مہرکے وصولی کےلیےشوہرکی جائیداد قرقی کروانا
..نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرسابقہ شوہر مہرکی رقم ادا کرنے میں لیت ولعل سے کام لے توکیا ایسی صورت میں بیوی اپنے مہر کی رقم کی وصولی کے لیے شوہرکی جائیدادبذریعہ عدالت قرقی کرواسکتی ہے ؟

o

اپنے حق کے بقدر قرقی کرواسکتی ہے۔اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ ظفر بالحق ‘‘ کہا جاتا ہے ، یعنی اگر کسی شخص کے ذمہ آپ کا کوئی حق واجب الاداءہو اور وہ ادا نہیں کرتا تو اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر اس کا مال کسی طریقہ پر آپ کے پاس آجائے تو آپ اس میں سے اپنا حق وصول کرلیں ۔حضرت ہندبنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ سے اپنے شوہر حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اخراجات میں بخل سے کام لیتے ہیں تو کیا میرے لیے ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لینے کی اجازت ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا: کہ اس قدر لے سکتی ہو جو تم کو اور تمہارے بچوں کو کافی ہوجا ئے ۔’’ ما یکفیک و ولدک ‘‘ ۔

حوالہ جات

کما فی صحيح البخاري (7/ 65) حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال: أخبرني أبي، عن عائشة، أن هند بنت عتبة، قالت: يا رسول الله إن أبا سفيان رجل شحيح وليس يعطيني ما يكفيني وولدي، إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم، فقال: «خذي ما يكفيك [ص:66] وولدك، بالمعروف»(صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۵۳۶۴ ، باب إذا لم ینفق الرجل فللمرأۃ أن تأخذ بغیر علمہ ما یکفیھا و ولدھا بالمعروف ) اس حدیث سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص صاحب ِحق کو اس کا حق ادا نہ کرے تو اپنے حق کے بقدر اس کے لیے لینا جائز ہے ۔ وفی الفتاوى الهندية (5/ 135) رجل له على آخر دين فأخذ من ماله مثل حقه قال الصدر الشهيد المختار أنه لا يصير غاصبا؛ لأنه أخذ بإذن الشرع لكن به يصير مضمونا عليه؛ لأن هذا طريق قضاء الدين كذا في المحيط.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔