021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی، بچوں کے درمیان جائداد ھبہ کرنا
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک صاحب ہیں ان کے سات بچے ہیں، 3 لڑکے اور 4 لڑکیاں۔ان صاحب کی Factory ہے۔ ایک لڑکا ان کا شادی شدہ ہے اور ان کا ایک بیٹا ہے اور ایک لڑکی ان کی شادی شدہ ہے اور ان کے تین بچے ہیں۔دو بڑے لڑکے پچھلے 6 سال سے Factory میں کام کررہے ہیں اور فیکٹری کی ترقی میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ چھوٹا بیٹا بھی اب فیکٹری میں Time دیتا ہے۔ والد صاحب چاہتے ہیں کہ میں اپنی وراثت کا حصہ کس طریقے سے تقسیم کروں۔مطلب سب سے پہلے بیوی کا حصہ اور پھر بچوں کا حصہ کس طریقے سے تقسیم کروں۔ سب سے بڑا بیٹا جس نے Factory پر 9 سال لگائے ہیں، اس سے چھوٹے بیٹے نے 7 سال لگائے ہیں، لیکن بیٹوں میں حصہ کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں لیکن لڑکیوں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کے حصے کے لیے کیا ترتیب ہوگی۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ o

o

صورت مسئولہ میں اگر آپ اپنی زندگی میں اپنی جائداد اپنی اولاد کو ھبہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تقسیم عدل وانصاف کے ساتھ کریں۔ عدل کی دو صورتیں ہیں۔ راجح صورت یہ ہے کہ اپنی بیوی کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ دینے کے بعد باقی جائیداد بیٹے اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کردیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جائیداد وراثت کے حصوں کے بقدر (ہر لڑکے کو لڑکی سے دگنا حصہ) تقسیم کردیں۔ تاہم اگر کسی واضح وجہِ ترجیح کی بنا پر کسی کو زیادہ حصہ دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ واضح وجہِ ترجیح کی مثال کسی کا طالبعلم ہونا، زیادہ خدمت کرنا یا کاروبار میں زیادہ معاونت کرنا یا محتاج ہونا ہوسکتی ہے۔ لہذا اگر سوال میں مذکور بیٹے کو کاروباری معاونت کی وجہ سے زیادہ دیں تو یہ بھی جائز ہوگا، باقی جائیداد لڑکے اور لڑکیوں میں برابر تقسیم کردیں۔یاد رہے کہ بعض کو بالکل محروم کرنا یا بعض کو تکلیف پہنچانے کے لیے بعض کو زیادہ دینا ناجائز ہے۔

حوالہ جات

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم… (قوله: وإن قصده) بسكون الصاد ورفع الدال، وعبارة المنح: وإن قصد به الإضرار وهكذا رأيته في الخانية (قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي." (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)5/696 ط:دار الفکر بیروت) "وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] .(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة." (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع6/127 ط:دار الکتب العلمیۃ) "وفي السراجية وينبغي أن يعدل بين أولاده في العطايا، والعدل عند أبي يوسف أن يعطيهم على السواء هو المختار كما في الخلاصة.وعند محمد يعطيهم على سبيل المواريث، وإن كان بعض أولاده مشتغلا بالعلم دون الكسب لا بأس بأن يفضله على غيره، وعلى جواب المتأخرين لا بأس بأن يعطي من أولاده من كان عالما متأدبا ولا يعطي منهم من كان فاسقا فاجرا" (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر2/358 ط:دار احیاء التراث العربی) "{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}… وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ [النساء: 11،12]" "فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/769 ط: دار الفکر-بیروت) 6-فتاوی محمودیہ 24/477
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔