021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امانت چوری ہونے کی صورت میں ضمان کاحکم
60088-1امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

مجھے ایک شخص نے امانت کے طور پر 50000 روپے دیے تھے۔میں نے ابتداءً وہ پیسے علیٰحدہ سے ایک جگہ سنبھال کر رکھ دیے تھے۔پھر مجھے اچانک ضرورت پڑی تو میں نے اس جگہ سے اٹھائے اور اپنے پاس رکھے خرچ کرنے کی نیت سے،یہ سوچ کر کہ پھر اپنے پیسوں میں سے اسے واپس کردوں گا۔مگر اتفاق ایسا ہوا کہ وہ پیسے استعمال کرنے کا موقع نہیں آیا ۔لیکن میں نے اب کی بار وہ پیسے اپنے پیسوں کے ساتھ ملادیے۔اس کے بعدمیری دوکان میں چوری ہوئی اور میرے پیسوں کے ساتھ ساتھ وہ 50000 روپے بھی چوری ہوگئے۔سوال یہ ہے کہ کیا میں ان 50000 کا ضامن ہوں گا یا نہیں؟

o

امانت کا عمومی حکم یہ ہے کہ اس میں خلط(کسی اور مال کے ساتھ ملانے )کی اجازت نہیں ہوتی۔مذکورہ سوال جس کی وضاحت بذریعہ ای میل کی گئی،سائل نے بتایا ہے کہ "امانت رکھواتےہوئےامانت رکھوانےوالے نے صراحتاً کہا تھا کہ ان پیسوں کو الگ رکھنا ،میں کسی بھی وقت واپس لوں گا"۔اس تنقیح کے بعد آپ کے لیے حکم یہ ہے کہ آپ پیسے چوری ہونے سے پہلے ہی اپنے پیسوں کے ساتھ ملانے کی وجہ سے ضامن ہوگئے تھے۔اس لیے آپ پر 50000 کی ادائیگی لازم ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 669) (وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر ابن كمال (بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف مجتبى (ضمنها) لاستهلاكه بالخلط لكن لا يباح تناولها قبل أداء الضمان، وصح الإبراء ولو خلطه برديء ضمنه لأنه عيبه وبعكسه شريك لعدمه مجتبى (وإن بإذنه اشتركا) شركة أملاك (كما لو اختلطت بغير صنعه) كأن انشق الكيس لعدم التعدي ولو خلطها غير المودع ضمن الخالط ولو صغيرا، ولا يضمن أبوه خلاصة. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 213) وكذلك المودع إذا خلط الوديعة بماله خلطا لا يتميز، يضمن؛ لأنه إذا كان لا يتميز، فقد عجز المالك من الانتفاع الوديعة؛ فكان الخلط منه إتلافا؛ فيضمن، ويصير ملكا بالضمان
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔