021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرضوں نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کے ترک پر اعتراض کرنا
..ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ بارے میں کہ میں سوات کے ایک علاقے میں امام ہوں، میں پہلے فرض نمازوں کے بعد مقتدیوں کے ساتھ اجتماعی دعاکرتاتھا لیکن بعد میں چند اکابرِعلماءِ دیوبند کی کتابوں کامطالعہ کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ فرض نمازوں کے بعد التزام کے ساتھ اجتماعی دعاکرنا صحیح نہیں ،لہذا اب میں نے اپنے مقتدیوں سے کہہ دیا ہے کہ آپ اپنی انفرادی دعاکرلیا کریں اورمیرے ساتھ ہاتھ اٹھانے اورنیچے کرنے کولازم نہ سمجھیں کیونکہ ہوسکتاہے کہ میں اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے مختصر دعاکروں اورآپ لمبی دعاکرنا چاہتے ہوں یامیں لمبی دعاکروں اورآپ کو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے جاناہو، لہذا آپ اپنی انفرادی دعاکرلیاکریں اورمیں اپنی دعا انفرادی کرلیاکروں گا لمبی یا مختصر، لیکن میرے اس عمل پر علاقے کے چندعلماء اعتراض کررہے ہیں تو آپ میرے اس عمل کے بارےمیں اورعلماء کی مخالفت کے بارےمیں شریعت کی رشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

o

فرائض کے بعد دعااوراس کااقرب الی القبول ہونا،اس میں ہاتھ اٹھانااورمقتدیوں کی طرف منہ پھیرنایہ امورالگ الگ ثابت ہیں، لہذاگرمقتدی اورامام الگ الگ دعاکریں اوراس سے صورةًاجتماع کی شکل بن جائے تواس میں کوئی حرج نہیں، اس کوبدعت سمجھناٹھیک نہیں ،جہاں تک حقیقی اجتماع کاتعلق ہے کہ امام اورمقتدی اکھٹے دعاشروع کریں اور اکٹھے ختم کریں، اس کاصحیح احادیث سےکوئی ثبوت نہیں ملتا،لہذااگرکوئی ذہناًاورعقیدةًاس کولازم سمجھتاہویااس پر اس طریقے سے عملی التزام کرتاہو کہ نہ کرنے والے پرطعن اورملامت کرتاہو تو یہ بدعت اورواجب الترک ہےاوراگرکوئی اس کو عقیدة ً بھی لازم نہیں سمجھتااوراس پراس طرح التزامِ عملی بھی نہیں کرتا کہ چھوڑنے والے پرطعن اورملامت کرے تواس میں علماءِ حق کے دوقول ہیں : ١۔بعض یہ کہتے ہیں کہ گوابھی اس کو عقیدة ً بھی لازم نہیں سمجھاجاتاوراس پراس طرح التزام عملی بھی نہیں کیاجاتا کہ چھوڑنے والے پرطعن اورملامت کیاجائےمگردوام کرنے سے آگے جاکراس کے لزوم کاخطرہ موجود ہے لہذاسدّاللذرائع اس کومنع کیاجائے گااوراس میں دیگرخرابیاں بھی ہیں ،یہی حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب کی رائے ہے ۔ ۲۔دوسری رائے یہ ہے کہ چونکہ لوگ اس کولازم نہیں سمجھتے اورعملی التزام نہیں کرتے محض دوام کرتے ہیں، اس لئے فی نفسہ یہ جائزہے، جب تک اس میں خرابیاں پیدانہ ہوں،یہ رائے حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ اوردیگرعلماء کی ہے ۔ دونوں طرف اہل حق علماء ہیں ،پہلی رائے احتیاط پرمبنی ہے ،دوسری رائے میں آسانی اورتخفیف ہے، لہذاتنقید اورشدّت کاراستہ اپنانےسے گریز کیاجائے اورجس کی رائے پر زیادہ اعتمادہواس پرعمل کیاجائے،ہماری رائے یہ ہے کہ چونکہ عموماًلوگ ترک کرنے والوں پر طعن کرتے ہیں، اس لئے اجتماعی شکل ترک کی جائےاورامام اورمقتدی میں سے ہرایک اپنے اپنے طورپردعا کرے اورایک دوسرے کاانتظارنہ کرے ۔

حوالہ جات

بَاب رَفْعِ الْأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ وَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله إذا سلم ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : رَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله إذا سلم يَدَيْهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله إذا سلم : رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.﴿بخاری رقم الحدیث ۵۸۹۵﴾ (15399) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحُرْفِيُّ ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " أَنّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُقَاتِلْ أَهْلَ الْجَمَلِ حَتَّى دَعَا النَّاسَ ثَلاثًا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَخَلَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقَالُوا : قَدْ أَكْثَرُوا فِينَا الْجِرَاحَ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي، وَاللَّهِ مَا جَهِلْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ إِلا مَا كَانُوا فِيهِ، وَقَالَ : صُبَّ لِي مَاءً، فَصَبَّ لَهُ مَاءً فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَدَعَا رَبَّهُ، وَقَالَ لَهُمْ : إِنْ ظَهَرْتُمْ عَلَى الْقَوْمِ فَلا تَطْلُبُوا مُدْبِرًا، وَلا تُجِيزُوا عَلَى جَرِيحٍ، وَانْظُرُوا مَا حَضَرَتْ بِهِ الْحَرْبُ مِنْ آنِيَةٍ فَاقْبُضُوهُ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ : هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالصَّحِيحُ : أَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ شَيْئًا، وَلَمْ يَسْلُبْ قَتِيلا﴿السنن الکبری للبیھقی ص ٦۰١۹رقم الحدیث ١۵۳۹۸﴾ بَابٌ فَضْلُ الْقُرَّاءِ وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله إذا سلم وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ قَطُّ إِلَّا مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ، قُتِلُوا، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءُ ".رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ 6524 17177 & وَعَنْ ثَابِتِ ، عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ أَهْلِهِ، فَقَالَ " اشْهَدُوا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ، قَالَ ثَابِتٌ : فَكَأَنِّي كَرِهْتُ ذَاكَ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ، لَوْ سَمَّيْتَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ.قَالَ : وَمَا بَأْسٌ أَنْ أَقُولَ لَكُمْ، أَفَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ إِخْوَانِكُمُ الَّذِينْ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله إذا سلم الْقُرَّاءَ؟ فَذَكَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبْعِينَ، فَكَانُوا إِذَا جَنَّهُمُ اللَّيْلُ انْطَلَقُوا إِلَى مَعَلَمٍ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ يَدْرُسُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ حَتَّى يُصْبِحُونَ، فَإِذَا أَصْبَحُوا، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ قُوَّةٌ اسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ وَأَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ، وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سِعَةٌ اشْتَرَوُا الشَّاةَ فَأَصْلَحُوا، فَيُصْبِحُ مُعَلَّقًا بِحُجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله إذا سلم فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعْثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله إذا سلم فَأَتَوا عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَفِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ، فَقَالَ لَأَمِيرِهِمْ : دَعْنِي، فَلْنُخْبِرْهُمْ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ حَتَّى يُخْلُوا وَجْهَنَا، فَقَالَ لَهُمْ حِرَامٌ : إِنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ، فَخَلُّوا وَجْهَنَا، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِرُمْحٍ فَأَنْفَذَهُ بِهِ، فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِي جَوْفِهِ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ : فَانْطَوُوا عَلَيْهِ فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ.قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله إذا سلم وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله إذا سلم كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ، أَوْ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذْ أَبُو طَلْحَةَ، يَقُولُ لِي : هَلْ لَكَ فِي قَاتِلِ حَرَامٍ.قَالَ : قُلْتُ : مَا لَهُ؟ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ.فَقَالَ : مَهْلًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ ".رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ بَاب رَفْعِ الْأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ وَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله إذا سلم ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : رَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله إذا سلم يَدَيْهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله إذا سلم : رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.﴿ترمذی رقم الحدیث۳۳۳۳﴾ وفی معارف السنن ۳/١۲۵ اخرج ابن ابی شیبة فی مصنفهِ من حدیث الاسود العامری عن ابیهِ قال صلیت مع رسول اللهِ صلى الله إذا سلم الفجرفلماسلم انحرف ورفع یدیهِ ودعا. (5933)- [6383] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم : (السمع والطاعة على المرء المسلم فيماأحب وكره ما لم يؤمر بمعصية ، فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولاطاعة) .
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔