021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ کاروبار سے کسی شریک کا ماہانہ مقرر کردہ رقم سے زیادہ لینا
..شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

2012ء میں چار افراد جوکہ آپس میں بھائی ہیں، انہوں نے باہمی شراکت کے ساتھ ایک کمپنی قائم کی، چاروں شرکاء کی شراکت کی تفصیل یہ ہے: پہلے شریک بڑے بھائی "ابو احمد" ہیں، یہ غیر عامل تھے، ان کا سرمایہ 30 مارچ 2012ء میں ایک فیصد تھا، البتہ آج 30 اپریل 2017ء کو ان کا سرمایہ 14 فیصد ہوچکا ہے۔ دوسرے شریک جوکہ عامل بھی ہیں، 30 مارچ 2012ء کو ان کا سرمایہ 30 فیصد تھا اور اب 30 اپریل 2017ء کو ان کا سرمایہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ تیسرے شریک محمد توصیف غیر عامل ہیں، 30 مارچ 2012ء کو ان کا سرمایہ تقریباً 8 فیصد بنتا تھا، آج 30 اپریل 2017ء کو ان کا سرمایہ 12 فیصد بنتا ہے۔ چوتھے شریک عکاشہ جوکہ عامل بھی ہیں، 30 مارچ 2012ء کو ان کا سرمایہ 33 فیصد تھا، اب 30 اپریل 2017ء کو ان کا سرمایہ 34 فیصد ہے۔ مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں درجِ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1۔۔۔ چوتھا شریک جوکہ عامل ہے، جس کا سرمایہ 34 فیصد ہے، اس نے اپنے سرمایہ سے زیادہ رقم اٹھالی ہے، اب دوسرا شریک جوکہ عامل بھی ہے، جس کا سرمایہ 40 فیصد ہے، وہ مطالبہ کرتا ہے کہ جو رقم کمپنی سے چوتھا شریک عامل لے گا جس کا سرمایہ 34 ہے، اتنی ہی رقم دوسرا شریک جو کہ عامل بھی ہے اور اس کا سرمایہ بھی 40 فیصد ہے، بھی لے گا، تاکہ کسی ایک شریک پر بوجھ نہ آئے۔ اب معاہدہ یہ طے ہوا ہے کہ جتنی رقم چوتھا شریک عامل اٹھائے گا اتنی ہی رقم دوسرا شریک عامل بھی اٹھائے گا۔ کیا یہ درست ہے؟ اس پر پہلے غیر عامل شریک جن کا سرمایہ 14 فیصد ہے اُن کا کہنا ہے کہ چوتھا شریک کمپنی سے رقم اٹھا سکتا ہے، اس کو اجازت ہے، اس کے حالات الگ ہیں، مگر دوسرے شریک عامل کو منع کرتا ہے کہ وہ نہیں اٹھاسکتا۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ کیا یہ غیر عامل شریک، دوسرے عامل شریک کو روکنے کا شرعاً حق رکھتا ہے؟ جبکہ چوتھے شریک کو یہ غیر عامل شریک اجازت دیتا ہے، اور عرف کے لحاظ سے غیر عامل کو بولنے اور تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ تنقیح ـــــ: سائل نے فون پہ سوال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا: "نفع کی تقسیم ہم نے فیصد کے اعتبار سے طے کی ہے، البتہ فیصد کے اعتبار سے نفع سال کے آخر میں تقسیم کرتے ہیں۔ دورانِ سال ہر شریک کو ماہانہ مخصوص مقدار میں لم سم رقم نکالنے کی اجازت دی گئی ہے، سال کے آخر میں پھر کمی بیشی کو پورا کیا جاتا ہے۔ اب ہوا یوں کہ چوتھے شریک کو ماہانہ جتنی رقم لینے کی اجازت دی گئی تھی اس نے اس سے زیادہ رقم نکال لی، اس پر دوسرے شریک کا کہنا ہے کہ میں بھی ماہانہ اتنی ہی رقم نکالوں گا جتنی چوتھا شریک نکالے گا۔ لیکن پہلا شریک چوتھے شریک کو تو اپنی مقررہ مقدار سے زیادہ رقم نکالنے کی اجازت دیتا ہے،جبکہ دوسرے شریک کو اجازت دینے کے لیے تیار نہیں؟ اب سوال یہ ہے کہ دوسرے شریک کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟

o

واضح رہے کہ شرکت میں نفع فیصد کے اعتبار سے مقرر کرنا ضروری ہے، لم سم رقم کی صورت میں نفع طے کرنا درست نہیں۔ نیز نفع کی حقیقی تقسیم اسی وقت ہوگی جب شرکت کے کاروبار کی "تنضیضِ حقیقی" یا "تنضیضِ حکمی" کی جائے۔ "تنضیضِ حقیقی" کا مطلب یہ ہے کہ جب شرکت ختم کرنا مقصود ہو تو شرکت کے کاروبار کے جو اثاثے اور دیون ہوں ان سب کو نقد میں تبدیل کیا جائے۔ ہر شریک نے جتنا سرمایہ لگایا تھا وہ اسے واپس کردیا جائے، اسی طرح جو اخراجات ہوئے ہوں یا کاروبار میں کوئی نقصان ہوا ہو اس کو منہا کیا جائے، اس کے بعد جو رقم بچ جائے وہ شرکت کا حقیقی نفع کہلائے گا جو شرکاء کے درمیان طے شدہ تناسب کے اعتبار سے تقسیم ہوگا۔ اور"تنضیضِ حکمی" کا مطلب یہ ہے کہ شرکت کے کاروبار کے اثاثوں کو بیچا نہ جائے، بلکہ ان کی قیمت لگائی جائے، اور قیمت کے ساتھ جو نقدی اور دیون ہوں ان کو ملالیا جائے اور ان سب کے مجموعے سے اولاً ہر شریک کا لگایا ہوا سرمایہ منہا کیا جائے، اسی طرح کاروباری اخراجات اور اگر کوئی نقصان ہوا ہو تو ان کو بھی منہا کیا جائے گا، اس کے بعد جو کچھ بچے وہ شرکت کا حقیقی نفع کہلائے گا جو طے شدہ فیصد کے حساب سے شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔ اس طریقے سے نفع کی تقسیم کے بعد اگر شرکاء شرکت کو جاری رکھیں تو شرعاً وہ نئے سرے سے شرکت شمار ہوتی ہے، اس موقع پر اگر وہ نفع کے تناسب میں کوئی تبدیلی کرنا چاہیں یا دیگر تفصیلات میں کوئی ترمیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا دو طریقوں کے بغیر نفع کی حقیقی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ لیکن تنضیضِ حقیقی اور تنضیضِ حکمی تک اگر شرکاء کو رقم کی ضرورت پڑتی ہے، تو وہ باہم رضامندی سے ضرورت کے مطابق ماہانہ (یا جو بھی مدت شرکاء طے کرلیں) فیصد کے حساب سے، یا مخصوص رقم کی شکل میں، یا ایک خاص حد تک مشترکہ مال میں سے رقم اٹھانے کا معاہدہ کرسکتے ہیں۔ البتہ جب تک تنضیضِ حقیقی (Actual Liquidation) یا تنضیضِ حکمی (Constructive Liquidation) نہیں ہوتی اس وقت تک نفع کی جو تقسیم ہوگی (چاہے فیصد کی صورت میں تقسیم ہو یالم سم رقم کی شکل میں) وہ علی الحساب ہوگی (اس کی وضاحت آگے آرہی ہے)۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کاروبار شروع کرتے وقت ہر شریک کا نفع میں حصہ فیصد کے اعتبار سے طے کیا گیا تھا، البتہ اس کی تقسیم کے لیے ایک مدت مقرر کردی تھی اور اس مدت کے آنے تک ہر شریک کو اس شرط پر ماہانہ مخصوص رقم یا ایک خاص حد تک رقم اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی کہ جب نفع کی تقسیم ہوگی تو اس وقت ہر شریک جتنے نفع کا مستحق ٹھہرے گا اس کے مطابق گزشتہ لی گئی رقم کی کمی یا زیادتی کا حساب کیا جائے گا تو یہ درست ہے۔ اور نفع کی حقیقی تقسیم تک ہر شریک جتنی رقم لیتا رہے گا وہ اس کے اوپر علی الحساب قرض ہوگی، جب تنضیضِ حقیقی یا تنضیضِ حکمی کے بعد فیصد کے اعتبار سے نفع کی حقیقی تقسیم ہوگی تو ہر شریک نے جتنی رقم لی تھی اگر وہ رقم نفع میں اس کے لیے طے شدہ فیصد سے زیادہ ہوئی تو وہ زیادتی اس پر قرض ہوگی جس کو واپس کرنا اس کے ذمہ لازم ہوگا، اور اگر کم ہوئی تو جتنی رقم کم ہوگی اتنی رقم اس کو مزید بطورِ نفع دی جائے گی۔ اس طریقے سے حد مقرر کرنے یا متعین رقم طے کرنے کے بعد ہر شریک کے لیے ماہانہ صرف اتنی ہی رقم لینا جائز ہوگا جتنی رقم کی اسے اجازت دی گئی ہو، کسی بھی شریک کے لیے دیگر تمام شرکاء کی اجازت کے بغیر مقررہ مقدار سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں غیر عامل شریک کا ایک شریک کو دوسرے شرکاء کی رضامندی کے بغیر مقررہ مقدار سے زیادہ رقم لینے کی اجازت دینا درست نہیں۔ البتہ اگر شرکاء ماہانہ رقم نکالنے کی مقرر کردہ مقدار میں تبدیلی کرکے اس کو کم یا زیادہ کرنا چاہیں تو باہم رضامندی سے ایسا کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

الهداية شرح البداية (3/ 209): قال: وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال؛ لأن الربح تابع وصرف الهلاك إلى ما هو التبع أولى كما يصرف الهلاك إلى العفو في الزكاة، فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب لأنه أمين، وإن كانا يقتسمان الربح والمضاربة بحالها ثم هلك المال بعضه أو كله ترادا الربح حتى يستوفى رب المال رأس المال لأن قسمة الربح لاتصح قبل استيفاء رأس المال لأنه هو الأصل وهذا بناء عليه وتبع له فإذا هلك ما في يد المضارب أمانة تبين أن ما استوفياه من رأس المال فيضمن المضارب ما استوفاه لأنه أخذه لنفسه وما أخذه رب المال محسوب من رأس ماله، وإذا استوفى رأس المال فإن فضل شيء كان بينهما؛ لأنه ربح، وإن نقص فلا ضمان على المضارب لما بينا. فلو اقتسما الربح وفسخا المضاربة ثم عقداها فهلك المال لم يترادا الربح الأول لأن المضاربة الأولى قد انتهت والثانية عقد جديد فهلاك المال في الثاني لا يوجب انتقاض الأول كما إذا دفع إليه مالاً آخر. المعاییر الشرعیة (331۔332): 3/1/5/9 : یوزع الربح بشکل نهائی بناءً علی أساس الثمن الذی تم بیع الموجودات به، وهو ما یعرف بالتنضیض الحقیقی. ویجوز أن یوزع الربح علی أساس التنضیض الحکمی وهو التقویم للموجودات بالقیمة العادلة. وتقاس الذمم المدینة بالقیمة النقدیة المتوقع تحصیلها، أی بعد حسم نسبة الدیون المشکوک فی تحصیلها. ولا یوجد فی قیاس الذمم المدینة القیمیة الزمنیة للدین (سعر الفائدة)، ولا مبدأ الحسم علی أساس القیمة الحالیة (أی ما یقابل تخفیض مبلغ الدین لتعجیل سداده). وتثبت المبالغ النقدیة بمقدارها. 3/1/5/10 : لایجوز توزیع الأرباح بشکل نهائی علی أساس الربح المتوقع، بل علی أساس الربح المتحقق حسب التنضیض الحقیقی أوالحکمی. 3/1/5/11 : یجوز توزیع مبالغ تحت الحساب،قبل التنضیض الحقیقی أوالحکمی،علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة عن المقدار المستحق فعلاً بعد التنضیض الحقیقی أو الحکمی. وفی صفحة:358: مستند جواز توزیع الربح علی أساس التنضیض الحکمی هو: ثبوت جواز العمل بالتقویم شرعاً فی تطبیقات عدیدة، ومنها الزکاة والسرقة، وقوله صلی الله علیه وسلم: "من أعتق شقصاً فی عبد فخلاصه فی ماله إن کان له مال، فإن لم یکن له مال قوم علیه العبد قیمة عدل". مستند جواز توزیع مبالغ تحت الحساب قبل التنضیض علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة : أنه لا ضرر فی ذلك علی أحد الشرکاء ما دام هذا المبلغ قابلاً للتسویة.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔