021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقیدہ حیات الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام
..ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

فلذلک نعتقد فیهم صلوات الله علیهم وتسلیماته: أنهم علیهم الصلاة والتسلیمات أحیاء عند ربهم بحیاة برزخیة أکمل وأتم من حیاة سائر المؤمنین فی البرزخ، فحیاتهم لیست مثل حیاۃ الدنیا، بل أفضل منها بکثیر وأرفع. وأحکامهما أیضاً لیست مثل أحکام الدنیا. وعلماء الأمة رحمہم اللہ قائلون مثل ما قلت. کما قال الشیخ ظفر أحمد العثمانیؒ: فإن قلت أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حی فی قبرہ فیکون التضحیة عن الحی دون المیت، قلنا: فتلك حیاۃ أخری لا من جنس الحیاة الدنیویة فہو میت باعتبار ھذہ الحیاة الدنیویة حی بتلك الحیوٰۃ البرزخیة المغایرة لھذہ الحیاة. (باب التضحیة عن المیت، اعلاء السنن:16/8010) وھذا معتقد مشایخنا الکرام الدیوبندیة رحمہم اللہ، لاسیما الشیخ حسین علی المیانوالی، والشیخ نصیر الدین الغورغشتوی، والشیخ القاضی نور محمد، والشیخ غلام اللہ خان راولبندی، والشیخ القاضی شمس الدین، والشیخ محمد طاھر البنج بیری، والشیخ عبد الغنی جاجروی، والشیخ عنایت اللہ شاہ البخاری. (سبیل الأذکیاء فی عقیدة حیاۃ الأنبیاء) مندرجہ بالا عبارت ایک کتاب سے نقل کی ہے۔ آپ حضرات فرمائیے کہ: (1)۔۔۔ مندرجہ بالا عقیدہ صحیح اور درست ہے یا نہیں؟ (2)۔۔۔ جن اکابر کے نام لکھے ہیں وہ اکابر کیسے لوگ تھے؟ صحیح عقیدہ والے تھے یا غلط؟ کیونکہ ہم سنتے ہیں کہ یہ سب حضرات دار العلوم دیوبند کے فاضل تھے۔

o

(1)۔۔۔ اس عبارت (فلذلك…) کی تفریع جن مقدمات اور تفصیلات پر کی گئی ہے ان کو دیکھے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ حیات الانبیاء علیہم الصلاة والسلام کے متعلق جمہور امت، اہل السنۃ والجماعۃ اور علمائے دیوبند کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلاة والسلام اپنی قبورِ مبارکہ میں اسی جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ ہیں جو اللہ تعالی نے دنیا میں عطا فرمایا تھا اور جسے قبرِ مبارک میں رکھا گیا تھا۔ یہ حیات عام مومنین اور شہداء کی طرح نہیں، بلکہ اس سے کہیں افضل اور اقویٰ ہے، اس میں روح کا رشتہ جسدکے ساتھ اتنا قوی ہوتا ہے کہ اس کو دنیوی حیات کی طرح بھی کہا جاسکتا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس حیات میں وہ احکام کے مکلف نہیں، نہ ہی ان کو کھانے پینے کی حاجت ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ حیات جسمِ عنصری، مدفون سے متعلق ہونے کی وجہ سے حقیقی اور جسمانی حیات ہے، یہ صرف ایسی روحانی حیات نہیں جس میں روح کا جسم سے کوئی تعلق نہ ہو، کیونکہ حیات کا مطلب ہی تعلق الروح مع الجسد ہے، صرف روح کے باقی رہنے پر حیات کا اطلاق نہیں ہوتا، روح تو کسی کی بھی فنا نہیں ہوتی۔ لہٰذا حقیقی اور جسمانی ہونے کے اعتبار سے اس حیات کو "کالحیاۃ الدنیویۃ" یعنی دنیوی زندگی کی طرح حیات کہتے ہیں، اور اسی کا اثر یہ ہے کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضر ہوکر سلام کہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سماعت فرماتے ہیں اور اگر کوئی دور سے درود وسلام پڑھتا ہے تو وہ فرشتوں کے ذریعہ پہنچایا جاتا ہے، جیساکہ حدیث میں ارشاد ہے: " من صلّیٰ علي عند قبري سمعته، ومن صلّیٰ علي نائياً أبلغته " (شعب الإيمان للبیهقی: 3/ 141) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ) جو شخص مجھ پر میری قبر کے پاس درود پڑھتا ہے تو میں اس کو خود سنتا ہوں، اور جو شخص مجھ پر دور سے درود پڑھتا ہے تو وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ اور چونکہ یہ حیات عالمِ برزخ میں حاصل ہوتی ہے اس لیے اسے "حیاتِ برزخیہ" بھی کہتے ہیں۔ (مأخذہٗ التبویب:53/52813۔ 48/45983) (2)۔۔۔ دار الافتاء سے صرف شرعی مسائل کے جوابات دئیے جاتے ہیں، شخصیات کے بارے میں تبصرے نہیں لکھے جاتے۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔