021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح فاسد میں ثبوت نسب کا حکم
..نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

عدت کے دوران سالی سے نکاح کرنے والا کیا سالی کو طلاق دے یا ویسے ہی علیحدگی اختیار کرلے،کئی دنوں سے وہ ازدواجی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے،اگر سالی حاملہ ہوگئی تو ثبوت نسب کا کیا حکم ہوگا؟

o

چونکہ نکاح صحیح نہیں ہوا،اس لیے طلاق کے علاوہ دیگر الفاظ سے علیحدگی اختیار کی جائے مثلا میں تم سے جدا ہوتا ہوں یا میں تمہیں چھوڑتا ہوں وغیرہ ،ان دونوں الفاظ میں سے کوئی بھی کہہ دے تو علیحدگی ہوجاتی ہےاور اگر اس دوران اس عورت کو اس شخص سے حمل ٹہرگیا ہے تو پیدا ہونے والے بچے کا نسب اسی شخص سے ثابت ہوگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 131): " (قوله في نكاح فاسد) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد، فيسقط الحد ويثبت النسب ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل، خلافا لما في الاختيار من كتاب العدة، وتمامه في البحر، وسنذكر في العدة التوفيق بين ما في الاختيار وغيره (قوله وهو الذي إلخ) بخلاف ما لو شرط شرطا فاسدا كما لو تزوجته على أن لا يطأها فإنه يصح النكاح ويفسد الشرط رحمتي (قوله كشهود) ومثله تزوج الأختين معا ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة. وفي المحيط: تزوج ذمي مسلمة فرق بينهما لأنه وقع فاسدا. اهـ. فظاهره أنهما لا يحدان وأن النسب يثبت فيه والعدة إن دخل بحر".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔